آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے پرامن اور شفاف انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کی زیر صدارت مظفرآباد میں ایک اعلیٰ سطح کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتخابی انتظامات، بیلٹ پیپرز کی طباعت، انتخابی مواد کی ترسیل اور دیگر تمام انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیف الیکشن کمشنر کو عام انتخابات کی اب تک کی تیاریوں اور لاجسٹک پلان سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے مجموعی انتخابی انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران اور عملے کو سخت ہدایت کی کہ انتخابات کے تمام مراحل کو مقررہ آئینی تقاضوں اور جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق ہر صورت مکمل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر الیکشن: پی ٹی آئی نائب صدر نے پارٹی تبدیل کر لی
بیلٹ پیپرز کی طباعت اور محفوظ ترسیل:
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تمام امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد اب بیلٹ پیپرز کی طباعت کا عمل بھی مقررہ منصوبہ بندی کے مطابق تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو خصوصی ہدایت جاری کی کہ بیلٹ پیپرز اور دیگر تمام انتخابی مواد کی بروقت تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی تمام متعلقہ انتخابی حلقوں تک محفوظ اور بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ پولنگ کے دن کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر پیش نہ آئے۔
شفافیت اور غیر جانبداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں:
انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کا تمام عملہ شب و روز عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے۔ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدار بنانے کے لیے الیکشن کمیشن تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ کسی بھی حلقے میں شفافیت پر انگلی نہ اٹھائی جا سکے۔
آئینی تقاضوں کے مطابق بروقت انتخابات کا عزم:
چیف الیکشن کمشنر نے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کا انعقاد آئینی تقاضوں، انتخابی قوانین اور جاری کردہ شیڈول کے مطابق بروقت، منظم اور شفاف انداز میں یقینی بنایا جائے گا، تاکہ آزاد خطے کے عوام اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال مکمل طور پر آزادانہ اور پرامن ماحول میں کر سکیں۔ اجلاس میں انتخابی انتظامات سے متعلق مختلف دیگر اہم امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کیے گئے۔




