اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے ایک بار پھر بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ جو بھی پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالے گا اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، جو پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالے گا اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پانی کا بطور ہتھیار استعمال امن کیلئے سنگین خطرہ،اسحاق ڈار، عالمی برادری کو آگاہ کردیا
وزیر ماحولیاتی تبدیلی نے کہا کہ کیا یہ حق سب کو مل گیا ہے کہ اوپر رہنے والے لوگ نیچے والوں کا پانی روک لیں گے؟ حق کے لیے کھڑا ہونا ہماری روایت ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک انڈس ٹریٹی سے مکر رہا ہے، مودی پاکستان میں آبی دہشت گردی کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی سرحدی علاقے کے ایک کسان ’’اقبال سولنگی‘‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا گائوں 2010ء، 2012ء اور پھر 2022ء کے تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر ہوا جبکہ دیگر اوقات میں زمین اس قدر خشک ہو جاتی ہے کہ اس میں گہری دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور کاشتکاری ممکن نہیں رہتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ ان حالات کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے تاہم ایک اور اہم عنصر بھی موجود ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کسانوں کو پانی ملے گا یا وہ خشک سالی کا شکار ہوں گے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقبال سولنگی کی کہانی دراصل پاکستان کے لاکھوں کسانوں کی کہانی ہے جن کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے،قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ اسی شعبے سے وابستہ ہے جبکہ ملک کی غذائی سلامتی کا انحصار بھی پانی کی دستیابی پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کا مستقبل اس پانی سےوابستہ ہے، اس لیے یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پانی کب اور کتنا ملے۔
یہ بھی پڑھیں:پانی کو ہتھیار بنانے پر وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا بھارت کو سخت انتباہ
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی سپین نے پرتگال جانے والا پانی روکا ہے یا یورپ میں مشترکہ دریائوں پر واقع ممالک نےزیریں کنارے والے ممالک کو پانی سے محروم کیا ہے؟ اگر اس طرز عمل کو قبول کر لیا گیا تو دنیا کے تمام بین الاقوامی دریا خطرے میں پڑ جائیں گے۔
اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ہمیشہ کہا ہے کہ پانی ہماری بقاء کا معاملہ ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا پوری دنیا سے کل پانی کی اہمیت پرکانفرنس میں شرکت کیلئے ماہرین آرہے ہیں اور اس کانفرنس میں انڈس واٹر ٹریٹی پر پاکستان کی اہمیت پر بات ہوگی۔




