پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مقاصد اور انہیں دوسرے ممالک کے خلاف ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری کو اس طرز عمل کی سنگینی اورخطرے سے آگاہ کیا ہے۔
جمعرات کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس جانب عالمی برادری کی توجہ برسلز میں منعقدہ اہم بین الاقوامی کانفرنس سےاپنے کلیدی خطاب میں دلائی۔ اس کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے انتظام اور بین الاقوامی قانون کے نامور عالمی ماہرین شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پانی کو ہتھیار بنانے پر وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا بھارت کو سخت انتباہ
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پانی انسانی بقا اور وقار کا معاملہ ہے، اسے کسی بھی ملک کے خلاف دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے سابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے تاریخی مؤقف کا حوالہ دیا کہ پانی کے بحران اکثر قلت سے زیادہ انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مشترکہ آبی وسائل اگر باہمی اعتماد اور طے شدہ فریم ورک کے تحت چلائے جائیں تو وہ علاقائی امن کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اگر انہیں یکطرفہ اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ شدید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں‘۔
وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ‘سندھ طاس معاہدے’ کو جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک تاریخی اور مؤثر فریم ورک قرار دیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ 3 جنگوں اور کئی سیاسی بحرانوں کے باوجود برقرار رہا۔
اسحاق ڈار نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مختلف ڈیموں، ذخائرِ آب اور دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کے منصوبوں کے ذریعے بھارت خطے میں ’ہائیڈرو ہیجمنی‘ (آبی بالادستی) قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ معاہدے کی روح کے سراسر منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی، تاریخی اور معاشی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔
دنیا کی قدیم ترین ’وادیٔ سندھ کی تہذیب‘ اسی خطے میں پروان چڑھی اور آج بھی پاکستان کی زراعت اور معیشت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات 24 کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں پر پڑ سکتے ہیں جسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کی طرف سے پانی کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال، پاکستان کا اظہار تشویش
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
انہوں نے یورپ میں سرحد پار آبی وسائل کے کامیاب انتظام کی مثالیں دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہی عالمی نظام کی بنیاد ہے اور اسی اصول پر کاربند رہنا ہوگا۔
نائب وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانونی فورمز پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آج کی دنیا کو اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ مشترکہ دریا اور آبی وسائل ممالک کو تقسیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنیں اور سرحد پار پانی کے انتظام میں تعاون، نہ کہ جبر، بنیادی اصول ہونا چاہیے۔




