دیامر:بادل پھٹنے سےتباہی،مکانات، فصلیں، رابطہ پل سیلاب میں بہہ گئے

چلاس(کشمیر ڈیجیٹل)ضلع دیامر کے علاقے تھور میں اچانک ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔

پولیس کے مطابق سیلابی ریلے نے تھور میک، تھور انگڑ، تھور شیطان اور ملحقہ علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں چند ہی لمحوں میں رہائشی آبادی اور زرعی اراضی زیرِ آب آگئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق متعدد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک گاڑی، گھریلو سامان اور مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ ایک مقامی مسجد کو بھی نقصان پہنچا، کیونکہ سیلابی پانی آبادی میں داخل ہو گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے،شدت5.7 ریکارڈ

سیلاب کے باعث کھڑی فصلیں بھی شدید متاثر ہوئیں اور کھیتوں میں ملبہ جمع ہونے سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مختلف رابطہ سڑکیں ٹوٹ گئیں یا بند ہو گئیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی اور امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آئیں۔

سڑکوں کی تباہی کے باعث سرکاری امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے، جبکہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

رضاکاروں نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، ملبہ ہٹایا اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کی۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

علاقہ مکینوں نے حکومتِ گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری امدادی سامان فراہم کیا جائے، تباہ شدہ سڑکوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور نقصانات کا جامع سروے کرکے متاثرہ خاندانوں کو بروقت معاوضہ اور بحالی کی سہولت دی جائے۔

وادی تھور کے مختلف حصوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی جہاں شہریوں کے مکانات، فصلیں اور رابطہ پل سیلاب میں بہہ گئے اور مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی، ایران نے متعدد امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا ڈالا

پولیس نے بتایا کہ سیلاب چلاس کی واپڈا کالونی میں داخل ہو گیا اور تباہی مچا دی، وادی تھور کا روڈ سیلاب کے باعث مختلف مقامات پر بند ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

سیلاب متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوراً ریلیف آپریشن شروع کیا جائے اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اے ڈی ڈیزاسٹر منیجمنٹ دیامر امتیاز احمد نے بتایا کہ چلاس کی سیلاب سے متاثرہ ویلی میں ریلیف آپریشن اور روڈ کھلوانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں اور ریلیف آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔