بھارتی جیل میں23سال گزارنے والے حریت پسندکشمیری کا پاکستانی قیادت کے نام خط سامنے آیا جس میں کالعدم ایکشن کمیٹی کےکارندوں سے کسی قسم کی رعایت نہ برتنے کی اپیل کیساتھ پاکستان کیساتھ لازوال وابستگی کا اظہار اور اہم تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
حریت پسند کشمیری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز،مدینہ ثانی پاکستان کی ہرطرف سے نصرت و حفاظت فرمائے اسے جلد مکمل مستحکم دو قومی نظریے کا علمبردار امن و سلامتی کا مسکن بنائے اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پاکستان بنائے۔ آمین
خط میں گزارش کی گئی ہے کہ آزاد کشمیر میں یہ حالات اچانک نہیں بنے، ان کے لیے مدت سے اور گزشتہ کچھ سالوں سے شدت سے بھارت و اسرائیل کی طرف سے کام جاری تھا جبکہ ہماری حکومتوں نے جو غلطیاں کی ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں۔
1۔ جان بوجھ کر نظریہ الحاق پاکستان کی حامل قوتوں کو غیر ملکی سازشوں کی وجہ سے کمزور کیا گیا ۔
2 ۔قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ تعالی کی جماعت مسلم کانفرنس کو کمزور کیا گیا اور مجاہدین کو آزاد کشمیر سے نکال کر عملا ًتحریک آزادی جموں کشمیر کے بیس کیمپ کو کمزور کر کے اپنی طاقت کو ختم کیا گیا ۔
3۔ تعلیمی اداروں سرکاری دفاتر میں وطن عزیز مدینہ ثانی پاکستان مخالف نظریات کو پختہ ہونے دیا گیا بلکہ سہولت کاری کی گئی ۔
4۔ ہم گذشتہ کئی سالوں سے آپ لوگوں کو بتا رہے تھے کہ ہم اب مقبوضہ جموں کشمیر کی بجائے ہر14 اگست کو راولاکوٹ ،ہجیرہ وغیرہ میں اسلام آباد سے پاکستانی پرچم ،بیج ،اسٹیکر وغیرہ بھیج رہے ہیں کہ اس طرف توجہ دیں ۔
5 اگست 2019 سے پہلے بھارت کا کوئی مرکزی وزیر بھی لال چوک سرینگر میں بھارت کا پرچم نہیں لہرا سکتا تھا،10 لاکھ فورسز کے باوجود وہاں صرف پاکستانی پرچم لہرائے جاتے تھے ،ہراونچی جگہ ہراہم جگہ،ہر اہم دن پر حتی کہ میتیوں اور قبروں پر بھی ۔
اب اسی لال چوک اور وادی میں پاکستانی پر چم کی جگہ بھارتی ترنگا لہرایا جا رہا ہے پاک افواج اور مدینہ ثانی پاکستان کے خلاف مظاہرے ہو رہےہیں۔
6۔ ہم نے آپ لوگوں کو بارہا بتایا کہ آزاد کشمیر میں خصوصاً بیرون یورپی ممالک اور راولا کوٹ، کوٹلی ،باغ ،میرپور وغیرہ میں پاکستان مخالف سرگرمیوں تیز ہورہی ہیںمگر آپ لوگوں نے کچھ نہیں کیا،الٹا ہمارے آگے ہی رکاوٹیں کھڑی کیں ۔
اب دشمن بھارت کافی حد تک مقبوضہ جموں کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹا کر آزاد کشمیر کی طرف مبذول کروا چکا ہے ،ہماری جگ ہنسائی ہو چکی ہے ،وہ بھی اس وقت جب ہم دنیا کو بڑی تباہی سے بچا کر ایران ،امریکہ کی صلح کروا رہے تھے توہمارے اپنے ملک میں بھارت و اسرائیل حالات خراب کر چکے ہیں ۔
یہ حقوق کی آڑ میں ملک دشمن قوتوں کی پراکسیاں ہیں،ان کو ختم کرنے کے لیے ریاست پاکستان کوفوری یہ کام کرنا ہوں گے۔
1۔ ریاست پاکستان کو اس بار کسی قسم کی کمزوری ہرگز نہیں دکھانی چاہیے اور نہ بلیک میل ہونا چاہیے نہ کوئی بیرونی پریشر و سازش قبول کرنی چاہیے ۔اپنی رٹ مکمل حکمت عملی سے قائم کرنی چاہیے ۔
2۔ عوام کو ان دشمن کی عوام دشمن پراکسیوں کے عزائم بتا کر ان سے الگ کرنا چاہیے ،انکے غیر آئینی غیر اخلاقی مطالبات کی خطرناکی،اس کے مقابل بھارت کی تیاری عوام کو بتائی جائے ،عوام کو ان چند شرپسندوں سے بہترین تدبیر سے حکمت عملی سے دور کیا جائے ۔
3۔ چند شر پسندوں کو چھوڑ کر یہ اپنے لوگ ہیں اس لیے طاقت کا استعمال بہت مجبوری میں اصل مجرموں کے خلاف ہی کریں۔ حکمت عملی اور دانشمندی سے انکے غبارے سے ہوانکالیں، ان میں سے اچھے لوگ منتخب کر کے متبادل وفادار قیادت تیار کریں جو حقوق کی بات کے ساتھ ساتھ نظریہ الحاق پاکستان کو مضبوط کرے باقی باطل نظریات کی حوصلہ شکنی کرے ۔
4۔ جب یہ بکھر جائیں پھر ان پراکسیوں کی قیادت کو ان کے جرائم کے لحاظ سے جاندار مختلف کیسز میں ضرور پکڑیں تاکہ آئندہ معصوم عوام کو گمراہ کر کے ریاست پاکستان کی جگ ھنسائی کا موقع نہ پیدا کر سکیں۔
5۔ عوام کو ضروری سہولیات ضرور دیں مگر پاکستان نواز لوگوں کے ذریعے ہی دیں ناکہ پہلے کی طرح شر پسند عناصر کے ذریعے ،البتہ آزاد کشمیر کی سیاسی لیڈر شپ کی بھی اگلے مرحلے پر اصلاح کریں تاکہ وہ بھی بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی بجائے ریاست پاکستان کے ہی وفا دار رہیں ۔
6۔ الیکشن وقت پر کروائیں ،پاکستان نواز لوگوں کی مکمل مدد کریں مہاجرین کی 12 سیٹیں کسی بھی صورت میں ختم نہ کریں ،بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں چالیس لاکھ ڈومیسائل تقسیم کر کے اپنا ووٹ بینک بڑھا چکا ہے ۔
قوم پرستوں کے مقابلے میں اپنے الحاق پاکستان والوں کو حکیمانہ طریقے سے منظم کرنے کی اور سڑکوں پر لانے کی ضرورت ہے،پھر ان پر دست شفقت رکھنے کی ضرورت ہے ،ڈنگ ٹپاو پالیسیوں نے ہی یہ دن دکھائے ہیں اس سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
7۔ ریاست اپنا مبنی برحق جاندار مضبوط بیانیہ بنا کر اس کو عوام تک ہرسطح پرہر طریقے سے پہنچائے ۔
8۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو ماضی کی اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے سفارتی ،سیاسی اور عسکری سطح پر مضبوط کیا جائے ،مقبوضہ جموں کشمیر میں لوکل مضبوط فعال عسکریت نظر آنی چاہیے ۔ماضی گواہ ہے یہی دشمن بھارت کا علاج ہے پاکستان میں امن و استحکام کی کلید ہے ۔
یاد رکھیں بھارت کے لیے تنازعہ جموں کشمیر اتنا مسئلہ نہیں ہے ہندوتوا کے بھارت کے لیے اصل مسئلہ اسلامی ایٹمی ریاست پاکستان ہے جسے وہ اپنی بھارت ماتا کہ حصہ ،مہا بھارت کے آگے واحد رکاوٹ سمجھتا ہے ،اسی طرح اسرائیل گرئیٹر اسرائیل کے آگے رکاوٹ صرف مدینہ ثانی پاکستان کو سمجھتا ہے ۔
9۔ اللہ تعالی نے پاکستان کو جو عزت اس وقت دنیا میں دی ہے اس کا فائدہ اٹھا کر مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے بھارت کے مسلمانوں کے لیے مضبوط حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے تاکہ نہرو ،لیاقت معاہدے پر کچھ عمل ہوسکے ۔
10۔ آزاد کشمیر، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ تعالی نظریہ پاکستان ،پاکستانیت ،پاکستان کے اصل ہیروزکو پڑھایا جائے اور آزاد کشمیر کے سرکاری اداروں میں نظر رکھی جائے ریاست مخالف نظریہ کو ختم کر کے اصل نظریہ الحاق پاکستان کو مضبوط تر کیا جائے ۔
11۔ ڈوگرہ دور میں اور اب بھارتی مظالم انسانیت شکنی ،ہندوتوا کے انسانیت دشمن عزائم پر مبنی لٹریچر اور بانیان آزاد کشمیر کی تحریک آزادی، خدمات ،قربانیوں کا نئی نسل کو پڑھایا جائے ۔
ڈاکو منٹریاں، مختصر ویڈیو گرافکس بنا بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو اصل تاریخ، اپنے محسنوں کا اور آزاد کشمیر کیسے اور کیوں وجود میں آیا یہ سب پتہ چلے وہ ہرقسم کی فکری ،منہجی گمراہی سے بچ سکیں اور آزاد کشمیر کو حقیقی معنوں میں تحریک آزادی جموں کشمیر کا بیس کیمپ بنایا جائے ،حکومت آزاد کشمیر یا کشمیر لبریشن سیل سرعام تسلیم کرے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کی مالی اخلاقی سفارتی مدد وہ کرتے ہیں۔
12۔ پاکستانی سفارت خانوں، دفتر خارجہ و داخلہ میں الگ سے کشمیر ڈیسک قائم کرنے چاہئیں۔
13۔ مین اسٹریم میڈیا پر تحریک آزادی جموں کشمیر کے لیے وقت مختص کروانا چاہیے ،تاریخ کو جاننے والے مخلص لوگوں سے وہاں گفتگو کروانی چاہیے۔
14۔ بیرون ممالک اورسیز اور تعلیمی اداروں میں کم از کم بھارت کی طرح کام کرنا چاہیے۔
15۔ کشمیر پر واضح موقف رکھیں کہ تنازعہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے حل کیا جائے ،جنیوا، او آئی سی ،یو این او ،وغیرہ عالمی فورموں پر بھی اسی موقف کی باز گزشت سنائی دے ۔
16۔ عالمی توجہ کے مرکز مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت بدل کر آزاد کشمیر کو توجہ کا مرکز بنانا چاہتا ہے اسے پھر بہترین جاندار غیرت پر مبنی حکمت عملی سے مقبوضہ جموں کشمیر منتقل کر کے تا حصول آزادی مستقل عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔
17۔ اندرونی طور پر مستحکم مضبوط مکمل پاکستان ہی اپنے اھداف باعزت طریقے سے حاصل کر سکے گا ۔
18۔ پوری آزاد کشمیر کی عوام ھماری اپنی عوام ہے ،صرف یہ چند شر پسند عناصر کا جتھا شرپسندی کرتا ہے،اس لیے ہمیںعام کشمیری عوام سے اس جتھے کو الگ کر کے مخاطب و ڈیل کرنا چاہیے ،اسی طرح اس شرپسند جتھے کو مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری تحریک آزادی کا نمائندہ ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے،
خط کے آخرمیں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارت مخالف تحریک آزادی جموں کشمیر کا نمائندہ فورم صرف آل پارٹیز حریت کانفرنس جموں کشمیرہے جس کے چیئرمین پاکستان کے انتھک سپاہی جناب مسرت عالم بٹ صاحب جانشین سید علی گیلانی مرحوم ہیں۔
(حال تہاڑ جیل نئی دہلی )




