دھیرکوٹ(کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم وصدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے حالیہ الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے سردار ساجد اقبال عباسی کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ۔
سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ الیکشن میں عوامی فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن: ایل اے 31حلقہ کھاوڑا کے انتخابی نتائج چیلنج
سابق وزیراعظم سردار عتیق خان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین عوامی دست و بازو ساجد اقبال عباسی کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور کھلے دل سے عوام کے فیصلے کوتسلیم کرتا ہوں۔
یاد رہے کہ ایل اے 14 غربی باغ سے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کو عوامی دست و بازو پارٹی کے امیدوار سردار ساجد اقبال نے شکست دے دی۔
حلقے کے تمام 214 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق سردار ساجد اقبال نے 40 ہزار 702 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ سردار عتیق احمد خان 19 ہزار 542 ووٹ لے سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار قمرالزمان اور ضیاء القمر پھنس گئے، 23 اسٹیشنز پر ری پولنگ کا اعلان
سردار عتیق احمد خان کی شکست کو آزاد کشمیر کے انتخابات کا اہم ترین اپ سیٹ قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ یہ حلقہ طویل عرصے سے مسلم کانفرنس کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
انتخابی تاریخ کے مطابق 1985 سے یہ نشست مسلم کانفرنس کے پاس رہی ہے۔ سردار عتیق احمد خان کے والد مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان بھی اسی حلقے سے متعدد بار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔
ماضی میں سردار عتیق احمد کے مقابلے میں مختلف سیاسی اتحاد بھی تشکیل پاتے رہے، تاہم وہ کئی مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ حالیہ انتخاب میں سردار ساجد اقبال نے مختلف انتخابی حکمت عملی کے ذریعے مسلم کانفرنس کے سربراہ کو ان کے روایتی مضبوط حلقے میں شکست دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سردار ساجد اقبال متحدہ عرب امارات میں کاروبار کرتے ہیں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران حلقے میں اپنی ذاتی وسائل سے سڑکوں، اسکولوں اور پانی کی اسکیموں سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں میں معاونت کرتے رہے، جس کے باعث انہیں مقامی سطح پر پذیرائی ملی۔
سردار عتیق احمد خان کی شکست کے نتیجے میں مسلم کانفرنس کو بھی بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گزشتہ آزاد کشمیر اسمبلی میں جماعت کی نمائندگی صرف سردار عتیق احمد خان کر رہے تھے، تاہم ان کی شکست کے بعد مسلم کانفرنس اسمبلی میں نمائندگی سے محروم ہوگئی ہے۔




