گلگت بلتستان اسمبلی میں ڈرامائی پیشرفت سامنے آئی ہے، 4نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی نے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کی اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔
آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے والے آزاد اراکین میں جی بی 23 گانچھے سے انور علی ، جی بی 24 گانچھے سے اسد شفیق ، جی بی 15دیامر سے محمد دلپزیر اور جی بی 21 غذر سے امان علی شامل ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت، بلاول کا گورنر، ڈپٹی سپیکر شپ ن لیگ کو دینے کا اعلان
پارٹی صدر عبدالعلیم خان نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں ، گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دن رات محنت کریں ۔
آئی پی پی میں شامل ہونے والوں کا مرکزی صدر عبدالعلیم خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ۔
اراکین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی کی پہلی مرتبہ گلگت بلتستان اسمبلی میں نمائندگی خوش آئند ہو گی، محنت اور ایمانداری سے گلگت بلتستان کی ترقی میں بھرپور حصہ لیں گے ۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انفراسٹرکچر اور سیاحت میں بہتری کی خاطر خواہ گنجائش موجود ہے ، بہتری کے لئے صحت ، تعلیم ، آئی ٹی اور روزگار کی فراہمی اہم شعبے ہوں گے ، پنجاب اور وفاق کے بعد گلگت بلتستان میں آئی پی پی اپنا مثبت کردار ادا کرے گی ۔
یاد رہے کہ ان میں سےگانچھے سے تعلق رکھنے والے2 آزادارکان انور علی اور ڈاکٹر اسد شفیق مسلم لیگ(ن)کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے لیکن اب انہوں نے حکومت کا حصہ بننے کیلئےاستحکام پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
آزادارکان کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت سےن لیگ کا حکومت کا حصہ بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے کیونکہ پیپلزپارٹی آور استحکام پاکستان ہی مل کر حکومت بنائیں گی۔
استحکام پاکستان پارٹی کو مزید 2نشستیں بھی ملنے کا امکان
گلگت بلتستان کے دو حلقوں میں آج دوبارہ گنتی ہوگی جن میں تانگیر سے سابق وزیراعلیٰ وآئی پی پی کے رہنما حاجی گلبر خان اور دیامر سے آزادامیدوار محمد مالک شامل ہیں ان دونوں کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں کامیابی سے استحکام پارٹی کو مزید 2 نشستیں مل جائیگی اور ن لیگ کو بڑا جھٹکا لگتے ہوئے ایک نشست کم ہو جائیگی۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کو مخصوص نشستوں میں سے بھی 2نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں اس طرح استحکام پاکستان پارٹی دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آسکتی ہے۔




