مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزادجموں و کشمیر قانون سازا سمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی محترمہ کوثر تقدیس گیلانی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق اہل سادات سے ہے۔جن میں سے اکثریت سفید پوش افراد پر مشتمل ہے۔
اسلام میں اہل سادات سے تعلق رکھنے والے نادار افراد کی زکوٰۃ فنڈ سے مالی امداد نہیں کی جا سکتی اور خلفائے راشدین کے دور میں ان کیلئے ایک علیحدہ وظیفہ مختص کیا گیا تھاجس سے سفید پوش اور نادار افراد کی مالی امداد کی جاتی تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن : انتخابی شیڈول میں ترمیم، 4جولائی کو حتمی فہرستیں شائع کرنے کا اعلان
آزاد کشمیر میں حکومتی سطح پر اہل سادات سے تعلق رکھنے والے نادار‘ سفید پوش اور مستحق افراد کی مالی امداد کے لئے کوئی طریق کار موجود نہ ہے۔
اور جو لوگ صدقہ خیرات قبول نہیں کرتے ان کیلئے باعزت مالی امداد کا کوئی ذریعہ بھی موجود نہیں ہے۔جس کی وجہ سے اہل سادات سے تعلق رکھنے والے معذور‘ سفید پوش‘نادار اور مستحق افراد مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نوبل امن انعام سے نوازا جائے،سردارامتیاز خان
اہل سادات کے نادار افراد کی مالی معاونت کے سلسلہ میں کافی عرصہ سے کام کر رہی ہوں اور اس ضمن میں جلد ہی خمس بل ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
میں اس مقدس ایوان کے دونوں اطراف کے معزز اراکین سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس قرار داد کی حمایت کریں تا کہ اس ضمن میں موثر قانون سازی عمل میں لائی جا سکے اور اہل سادا ت سے تعلق رکھنے والے غریب‘ نادار اور مستحق لوگوں کی داد رسی کی جا سکے۔




