امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے ایک بہت بڑی اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر آج ہی دستخط کر د ئیے جائیں گے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے پر دستخط ہوتے ہی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا ۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب ایران کے ساتھ ہمارا تعلق ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف اور بہت بہتر ہو گا اور اس پورے معاہدے میں کسی قسم کی رقم کا تبادلہ نہیں کیا جا رہا ۔
امریکی صدر نے کہا کہ جیسے ہی علاقے میں حالات پرامن اور معمول پر آئیں گے تو ہم وہاں جا کر جوہری مواد بھی کھود کر نکالیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ طویل عرصے تک مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اُمید ظاہر کی کہ یہ پورا عمل بہت تیزی، آسانی اور ہمواری کیساتھ مکمل ہو جائے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:تہران نےامریکی صدر ٹرمپ کے مذاکراتی دعوؤں کو مسترد کر دیا
تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ کے پاس متبادل راستے (پلان بی) بھی موجود ہیں لیکن امید ہے کہ ان کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس حوالے سے ایک انتہائی اہم بیان جاری کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں اور پوری توقع ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اس تاریخی معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی، جس کے فوراً بعد دستخطوں کی تیاری کی جائے گی ۔
شہباز شریف نے بتایا کہ اس بنیادی معاہدے کے بعد اگلے ہی ہفتے سے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع ہوں گے ۔
انہوں نے اس اہم موڑ پر کامیاب مذاکرات اور تعاون کے لیے امریکہ اور ایران دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل بہترین جنرل، امن معاہدے کیلئے پاکستان کردار ادا کررہا ہے، ٹرمپ
وزیراعظم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان اس امن معاہدے پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کرنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر رہا ہے ۔




