آپریشن کا خطرہ، کالعدم ایکشن کمیٹی کا نیا حربہ،خواتین اور بچوں کو آگے کردیا

راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل) راولاکوٹ دریک کے مقام پر ممکنہ گرینڈ آپریشن کے پیشِ نظر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا نیا حربہ سامنے آگیا، خواتین اور بچوں کو میدان میں لے آئی ۔

ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کے علاقے دریک میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے دوران احتجاجی مقامات پر خواتین اور بچوں کی آمد دیکھی گئی ہے۔

انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے ممکنہ ایکشن کے پیشِ نظر مظاہرین نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے، جبکہ کمشنر پونچھ کے مطابق فورسز نے کچھ مقامات سے شرکا کو منتشر کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:رینجرز اور پولیس کے تازہ دم دستے راولاکوٹ کے قریب پہنچ گئے

مقامی ذرائع اور سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں اور احتجاجی مارچ میں خواتین، بچوں اور معمر شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہو چکی ہے تاکہ رات کے اندھیرے میں فورسز کے ممکنہ کریک ڈاؤن یا طاقت کے استعمال کو روکا جا سکے۔

پونچھ انتظامیہ کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ فورسز نے راولاکوٹ کے دو اہم مقامات سے 8 سے 10 ہزار مظاہرین کو کامیابی سے منتشر کر دیا ہے۔۔

دوسری جانب، احتجاجی کمیٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ براہِ راست تصادم اور جانی نقصان سے بچنے کے لیے عارضی طور پر مختلف مقامات پر پھیل گئے ہیں اور دھرنا ختم نہیں ہوا بلکہ نئے لائحہ عمل کی تیاری جاری ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:تنخواہوں و پنشن میں7فیصد اضافہ، انکم ٹیکس میں‌ ریلیف کا اعلان

پنجاب رینجرز اور پولیس کے دستے کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے تاحال الرٹ ہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ اور گردونواح کے متعدد علاقوں میں کشیدگی پر قابو پانے اور افواہوں کو روکنے کیلئے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو جزوی طور پر معطل رکھا گیا ہے۔

حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہلی ترجیح مزید جانی نقصان اور تصادم کو روکنا ہے، تاہم کالعدم تنظیم کی جانب سے خواتین اور بچوں کو آگے لائے جانے کے بعد آپریشن کی تیاریاں انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔