رینجرز اور پولیس کے تازہ دم دستے راولاکوٹ کے قریب پہنچ گئے

راولاکوٹ(کشمیر ڈیجیٹل) رینجرز اور پولیس کے تازہ دم دستے راولاکوٹ کے قریب پہنچ گئے ۔

راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز کے تازہ دم دستوں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں فیس بک اور انسٹا گرام کام کرنا چھوڑ گئے،صارفین کو مشکلات کا سامنا

مختلف اوقات میں آزاد کشمیر اور بالخصوص راولاکوٹ میں عوامی احتجاج، پہیہ جام ہڑتالوں یا سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کی جاتی رہی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان دستوں کی آمد کا مقصد شہر میں قانون کی بالادستی قائم رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

راولاکوٹ کے علاقے دریک میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پڑاؤ اور رینجرز و پولیس کے تازہ دم دستوں کی آمد کے بعد وہاں شدید تناؤ پایا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرینڈ آپریشن کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کو سپورٹ کرنیوالے تاجروں کیخلاف کارروائی، متعدد دکانیں سیل

راولاکوٹ اور گردونواح میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید اور کم از کم 7 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

فائرنگ اور لاٹھی چارج کے باعث 20 سے زائد پولیس اہلکار اور درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں،فائرنگ اور لاٹھی چارج کے باعث 20 سے زائد پولیس اہلکار اور درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

حراستیں: پونچھ انتظامیہ اور پولیس نے کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 30 سے زائد سرگرم افراد کو حراست میں لیا،۔دریک میں پڑاؤ: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان نے راولاکوٹ کے قریبی علاقے دریک میں دھرنا دے رکھا ہے، جہاں وہ احتجاجی حکمتِ عملی مرتب کر رہے ہیں۔

کسی بھی بڑے تصادم سے نمٹنے اور امن و امان بحال کرنے کے لیے پنجاب رینجرز اور پولیس کے تازہ دم دستے بھاری نفری کے ساتھ راولاکوٹ پہنچ چکے ہیں۔

حکمتِ عملی: انتظامیہ نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چوکیاں قائم کر دی ہیں اور سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ سمیت تمام حساس سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

یہ موجودہ بحران آزاد کشمیر میں بنیادی حقوق، تاجروں کے مطالبات اور خصوصاً مہاجرین کیلئے مختص 12 قانون ساز اسمبلی کی نشستوں کو ختم کرنے کے تنازع پر شروع ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جس نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔