اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر میں موجودہ صورتحال انتہائی افسوسناک اور بیرونی ایجنڈے کو کامیاب بنانے کی سازش ہے ۔
آزادکشمیر میں انتشار کی صورتحال کےپیچھے دشمن کا ایجنڈا ہے ۔ریاستی استحکام اور امن کیلئے ضروری ہے کہ کاالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو تن کر رکھا جائے ۔
ان خیالات کا اظہار حریت رہنما عبدالحمید لون نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر اینکر مجتبیٰ بٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور حکومت آزادکشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران کو اپنے گلے لگایا ،مذاکرات کی میز پر بیٹھایا، مگر کور کمیٹی ممبران کی ہٹ دھرمی برقرار رہی اوربیرونی ایجنڈے پر مذاکرات کو ثبوتاژ کرنے کیلئے بہانے تلاش کئے جاتے رہے ہیں۔
عبدالحمید لون کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر میں انتشار اور بدامنی کو فروغ دیکر دشمن کو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ مہم کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ اور دشمن اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہےجو انتہائی بدقسمتی ہے ۔
کشمیری حریت رہنما کاکہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد بھارت کی چیخیں نکلیں، اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کردیا ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ہے وہاں آزادکشمیر میں بھی انتشار پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مہاجرین نشستوں پرصدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ کی رائے صدرکو واپس ارسال
انہوں نے کہا کہ بھارت آزادکشمیر کے اندر لوگوں میں انتشار پیدا کرکے بھائی کو بھائی سے لڑانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جائے۔تحریک آزادی کے متوالوں کو حراساں کیا جائے۔بھارت نام نہاد قوم پرستوں کے ذریعے آزادکشمیر میں بدامنی کیلئے بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے
عبدالحمید لون کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجودکشمیری قوم پرستوں کو بھاری رقوم کے عوض بھارتی ایجنڈے کو تقویت دے رہا ہے ۔ ان کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں کہ یہ لوگ دشمن کے بیانیہ کو تقویت دے رہے ہیں۔
عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادکشمیر کی بڑی تعداد موجود ہے اور پرامن اپنے مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں، پاکستان کے اندر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں
کشمیریوں کی پاکستان میں زمینیں ، کاروبار، جائیدادیں، بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کے مقابلے میں بھارت مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو 8 لاکھ فوج کے زریعے ہراساں کررہا ہے ، ان کے بچوں کو جیلوں میں بھیجا جارہا ہے
، دس دس سال قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا معاشی استحصال جاری ہے ، خواتین کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ وہاں بھارتی ظلم کی انتہا ہوچکی ہے ۔
عبدالحمید لون کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے ۔ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی ریاستی تشخص اور سلامتی کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ شرپسندوں کیخلاف کارروائی کی جانی چاہیے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سے سخت سزائیں دی جائیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حالات مزید خراب ہوئے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے،وزیراعظم فیصل راٹھور
ایک سوال کے جواب میں عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ سسکتھ جنریشن وارفیئر یہی ہے کہ نوجوانوں کے ذہن خراب کئے جائیں اور ریاستی اداروں کیخلاف اکسایا جائے ۔ حقوق کے نام پر انتشار کو ہوا دی جائے ۔ آج کل اے آئی کا دور دورہ ہے سوشل میڈیا پر فیک تصاویر اور ویڈیوز بنا کر پھیلانا آسان ہوچکا ہے ۔
عبدالحمید لون کا مزید کہنا تھا کہ دشمن اس وقت آزادکشمیر میں نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے ۔ آزادکشمیر کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو سوچنا ہوگا کہ جانے انجانے میں یہ کس کے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں ۔




