راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل)صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کھائیگلہ میں مسلم کانفرنس کے امیدوارِ اسمبلی ڈاکٹر عرفان اشرف پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض شرپسند عناصر کی جانب سے کئے گئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
صدر مسلم کانفرنس نے کہا کہ ایک طرف ایکشن کمیٹی کے لوگ عوامی مسائل اور مطالبات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ اپنے پرتشدد طرزِ عمل کی اصلاح کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔
سردار عتیق خان کا کہنا تھا کہ مقامی سیاسی کارکنان کی جان و مال پر حملے ایک خطرناک رجحان اور کسی منظم منصوبے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پشاورہائیکورٹ:افسران کو مفت بجلی سہولت معطل کئے جانے کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ احتجاجی قافلوں میں ایسے عناصر شامل ہیں جو آزادکشمیر میں بدامنی، ہنگامہ آرائی اور تشدد کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جن سے خدانخواستہ آزادکشمیر کے وجود اور استحکام کو خطرات لاحق ہو۔
گزشتہ احتجاجی واقعات میں بھی درجنوں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان اور اربوں روپے مالیت کی املاک کی تباہی ہوئی۔
سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان، معروف سیاسی رہنما رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت دیگر ذمہ دار شخصیات بھی قومی میڈیا پر اس امر کا اظہار کر چکی ہیں کہ ان احتجاجی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں بدامنی کے پیچھے بھارتی ایجنڈا اور بھاری سرمایہ کاری ہے،عبدالحمید لون
حالیہ پرتشدد واقعات ان خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔انہوں نے ڈاکٹر عرفان اشرف اور ان کے ساتھیوں پر حملے کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں۔
حملہ آوروں کی جانب سے نقصان پہنچانے کی کوششیں نہ صرف قابلِ افسوس ہیں بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہیں۔




