میرپور (کشمیر ڈیجیٹل)تحریک انصاف آزاد کشمیر کے مرکزی و ضلعی رہنماؤں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جبر کے بجائے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات کا پرامن حل نکالا جائے۔
رہنماؤں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے اور اس کے سینکڑوں کارکنان و رہنماؤں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ مطالبات تحریک انصاف آزاد کشمیر کے رہنماؤں سردار جمیل صادق ایڈووکیٹ، جبار منہاس ایڈووکیٹ، چوہدری اشرف ایاز ایڈووکیٹ، قمر چوہدری، فوزیہ بٹ، غلام رسول عوامی، چوہدری احسان الحق، زیشان فاروق قریشی اور چوہدری عارف جنیالوی نے کشمیر پریس کلب میرپور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون سے قبل ہڑتال کی کال مسترد، کاروبار زندگی رواں دواں
رہنماؤں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک پرامن اور حساس خطہ ہے جہاں ظلم و جبر پر مبنی کسی بھی کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت پاکستان اور مقتدر حلقوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو اعتماد میں لیے بغیر رینجرز اور دیگر فورسز کو آزاد کشمیر میں داخل کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات ریاستی عوام کی خواہشات کے مطابق اور مکمل طور پر جائز ہیں۔ ایک سال قبل وفاقی حکومت اور حکومت آزاد کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ تحریری معاہدہ کرتے ہوئے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، تاہم اب معاہدے پر عملدرآمد کے بجائے کشمیری عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے انٹرنیٹ سروسز کی بندش پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت عوام کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ منقطع ہونے کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ:مہاجرین نشستوں سے متعلق ریفرنس پر فیصلہ محفوظ
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو بھارتی طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے کشمیری عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اول و آخر پاکستانی ہیں اور پاکستان کے دفاع میں اہم کردار رکھتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور 9 جون کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی۔ رہنماؤں نے تاج دین ایڈووکیٹ سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے راولاکوٹ میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعے پر بھی افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔




