مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل : رپورٹ محمد شبیر اعوان سے) سپریم کورٹ نے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستوں کے آئینی و قانونی مستقبل سے متعلق حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے دائر کردہ آئینی ریفرنس کی ابتدائی سماعت، معاملے کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر وسیع تر مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جج سپریم کورٹ جناب جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل بینچ نے ریفرنس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل آزاد کشمیر نے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے آئینی و قانونی نکات عدالت کے سامنے پیش کئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ معاملہ ریاستی آئینی ڈھانچے، انتخابی عمل اور مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے، اس لیے مختلف حلقہ ہائے فکر کی آراء اور تجاویز حاصل کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے قائد ایوان، قائد حزب اختلاف، تمام اراکین قانون ساز اسمبلی، مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سینئر وکلاء، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور سمیت عوام الناس کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ افراد تک نوٹسز کی بروقت ترسیل اور ان کی جانب سے تحریری تجاویز و آراء رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس آج شام 5 بجے تک جمع کروانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ جن افراد اور اداروں کو نوٹس جاری کئےگئے ہیں وہ اپنی تحریری رائے شام تک جمع کروائیں یا 6 جون کو عدالت میں پیش ہو کر اپنے قانونی مؤقف اور تجاویز سے آگاہ کریں۔ بعد ازاں مزید سماعت کل 6 جون تک ملتوی کر دی گئی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جناب جسٹس رضا علی خان نے اس مقدمے کی سماعت سے معذرت کر لی تھی جس کے باعث معاملے کی سماعت دو رکنی بینچ کر رہا ہے۔
حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس میں مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت اور ان کے خاتمے یا تبدیلی کے مطالبات سے متعلق پانچ بنیادی قانونی سوالات عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں۔
ریفرنس میں استفسار کیا گیا ہے کہ آیا آئین آزاد جموں و کشمیر کی دفعات 22، 33 اور 57 کے تحت مہاجرین کی مخصوص نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور کیا ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا خاتمہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
حکومت نے عدالت سے یہ بھی رہنمائی طلب کی ہے کہ آیا عوامی دباؤ، احتجاج، دھرنوں یا راستے بند کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی طور پر جائز تصور کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ریفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے قریب موجودہ قانون ساز اسمبلی کیا اس نوعیت کی بنیادی آئینی ترمیم کرنے کی مجاز ہے یا اس نوعیت کا فیصلہ نئی منتخب اسمبلی کو کرنا چاہیے جو تازہ عوامی مینڈیٹ کی حامل ہو۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی کی کال سے قبل بڑا سکیوٹی پلان، 14 ہزار اہلکار طلب
ریفرنس میں مزید استفسار کیا گیا ہے کہ آیا طاقت، دباؤ یا دھمکی کے ذریعے کسی آئینی شق کے خاتمے کی کوشش آئینی نظم کی تخریب کے مترادف ہو سکتی ہے اور کیا ایسا اقدام ریاست کے پاکستان سے الحاق، مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی تشخص اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم قرار دیا جا سکتا ہے۔
حکومت نے بنیادی حقوق کے تناظر میں بھی عدالت سے رائے طلب کی ہے کہ آیا احتجاج اور اجتماع کی آزادی کو ایسے مطالبات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جن کا مقصد انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا یا آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر تبدیلیاں کروانا ہو، یا ایسی سرگرمیاں آئینی تحفظ کے دائرے سے باہر شمار ہوں گی۔
ریفرنس میں حکومت کی آئینی ذمہ داریوں سے متعلق بھی رہنمائی مانگی گئی ہے اور عدالت سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایسے مطالبات مسترد کرے جو آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے برخلاف ہوں اور کیا حکومت آئینی مدت کے اندر انتخابات کے انعقاد، امن و امان کے قیام اور ریاستی نظم و نسق کے تحفظ کیلئے تمام قانونی اقدامات کرنے کی پابند ہے۔
ریفرنس میں بیان کئے گئے حقائق کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت اختتام کے قریب ہے جبکہ جولائی 2026 کے آخری ہفتے میں عام انتخابات متوقع ہیں۔
حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بروقت انتخابات کا انعقاد اس کی آئینی ذمہ داری ہے اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال انتخابی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشیں ، اگلے 24 گھنٹے اہم قرار
حکومت کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں جن میں چھ نشستیں وادی کشمیر جبکہ چھ نشستیں جموں ریجن اور منگلا ڈیم متاثرین کے لیے مختص ہیں۔
ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ نشستیں 20 لاکھ سے زائد مہاجرین کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان کی حیثیت محض انتخابی بندوبست نہیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی نمائندگی، ریاست جموں و کشمیر کے وحدانی تشخص اور حق خودارادیت سے متعلق تاریخی مؤقف کی علامت ہے۔
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ شامل کیا ہے۔ حکومت کے مطابق چارٹر کے متعدد نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے تاہم یہ معاملہ اب بھی سب سے زیادہ متنازع اور غیر حل شدہ مسئلہ ہے۔
حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتالوں، لانگ مارچ اور احتجاجی تحریکوں کے اعلانات کے باعث انتخابی عمل، کاروباری سرگرمیوں اور معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
ریفرنس میں 2024 اور 2025 کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دوران سڑکیں بند ہوئیں، کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، مواصلاتی نظام متاثر ہوا اور بعض مقامات پر جانی نقصان کے واقعات بھی پیش آئے۔
حکومت نے اپنے مؤقف کی تائید میں آئین آزاد کشمیر کی دفعہ 33 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم صرف دو تہائی اکثریت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے سابقہ فیصلوں میں بھی آئینی دفعات میں تبدیلی کیلئے آئین میں درج طریقہ کار کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ریفرنس میں سپریم کورٹ پاکستان کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ اپنی مدت پوری کرنے والی اسمبلی کو اس نوعیت کے بنیادی اور دور رس اثرات کے حامل آئینی فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے اور ایسے معاملات نئی منتخب اسمبلی کے سپرد کیے جانے چاہئیں۔
حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آئین کی دفعہ 46-اے(2)کے تحت اٹھائے گئے تمام قانونی سوالات پر اپنی رائے فراہم کرے، انتخابی عمل کو درپیش ممکنہ آئینی پیچیدگیوں کے پیش نظر معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر سنے اور آئین کی بالادستی، انتخابی نظام اور ریاستی استحکام کے تحفظ کیلئے واضح آئینی رہنمائی جاری کرے۔
یہ ریفرنس ایسے وقت میں عدالت عظمیٰ کے روبرو آیا ہے جب مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ آزاد کشمیر کی سیاست، آئینی مباحث اور آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور مختلف سیاسی و عوامی حلقوں کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ کارروائی اور ممکنہ قانونی رائے پر مرکوز ہیں۔




