پاکستان کی نامور ٹی وی شخصیت و میزبان فخرِ عالم نے سابق مایہ ناز کرکٹرز وسیم اکرم اور مصباح الحق کے ساتھ حال ہی میں حج کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر ان تینوں معروف شخصیات کی جانب سے حج کے بعد سر کے بال نہ منڈوانے پر شدید تنقید کی جا رہی تھی، جس کا جواب اب فخرِ عالم نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے جاری کر دیا ہے۔
علمائے کرام سے رہنمائی اور شرعی موقف:
سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ حج پر آنے سے قبل انہوں نے بہت سے مستند علمائے کرام سے اس بارے میں تفصیلی رہنمائی لی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ علماء کی جانب سے ہمیں واضح طور پر بتایا گیا کہ اس معاملے میں ہر مسلمان کے پاس دو آپشنز موجود ہوتے ہیں کہ چاہے وہ سر منڈوائیں اور چاہیں تو نہ منڈوائیں۔ ٹی وی میزبان کا کہنا تھا کہ “ہاں، یہ سچ ہے کہ سر منڈوانے کی فضیلت زیادہ ہے، لیکن شرعی طور پر آپ تھوڑے سے بال کٹوا کر (قصر کروا کر) بھی اپنا فرض پورا کر سکتے ہیں”، اور انہوں نے اسی پر عمل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین آفریدی کامنفرداعزاز ،وسیم اکرم اور وقار یونس کی فہرست میں جگہ بنا لی
“کیا آپ وہاں پکنک کرنے گئے تھے؟” تنقید پر جواب:
فخرِ عالم نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہم پر بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا کہ کیا آپ وہاں پکنک کرنے گئے تھے؟ تو میں بتاتا چلوں کہ حج کے دوران 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور جب آپ پورا دن وہاں گزارتے ہیں تو اس میں عبادت بھی ہوتی ہے، اس طویل وقت میں انسان کبھی (اللہ کے حضور) غمزدہ اور رنجیدہ بھی ہوتا ہے، کبھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنس بھی رہا ہوتا ہے اور کبھی دوستوں سے خوش گپیاں بھی لگاتا ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ دراصل یہی حج کی اصل روح ہے کہ دنیا بھر سے آئے مسلمان آپس میں مل جل کر رہیں، خوش دلی سے پیش آئیں اور ایک دوسرے سے محبت و بھائی چارے کا تعلق قائم کریں۔




