اثرات

کیا پاکستان میں پٹرول مزید مہنگا ہوگا؟ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے تشویش کی لہر

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث توانائی کی عالمی مارکیٹوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس معاشی اتار چڑھاؤ کے بعد مقامی مارکیٹ میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کی شرح پر اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی مہنگا ہو گیا ہے اور اس کی قیمت بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی 96 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں تعطل: تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات:

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجوہات مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال، تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس کا اثر براہِ راست قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ملکی معیشت اور پٹرول کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات:

اقتصادی ماہرین کے مطابق، اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ تسلسل برقرار رہا تو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ پٹرول اور ڈیژل مہنگا ہونے کی صورت میں ملکی سطح پر مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے، جس کا براہِ راست اثر عام استعمال کی اشیاء پر پڑے گا اور مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی : گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 6 فیصد کمی