اسلام آباد (1 جون 2026): مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، برینٹ کروڈ 93 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سپلائی کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ برینٹ کروڈ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں آنے والی اس نمایاں تیزی نے جہاں سرمایہ کاروں کو چونکا دیا ہے، وہاں دنیا بھر میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق شدید خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حالیہ کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل اب بھی مہنگے، شہریوں پر پیٹرولیم لیوی کا اضافی بوجھ برقرار
مارکیٹ سے موصول ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب، ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جبکہ مربن خام تیل کی فروخت بھی 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ صورتحال واضح طور پر مارکیٹ میں تیل کی مضبوط طلب اور سپلائی سے متعلق پیدا ہونے والے سنگین خدشات کی نشاندہی کرتی ہے۔
مارکیٹ کے نامور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے میں کسی قسم کی پیش رفت نہ ہونا ہے۔ اس تعطل کے باعث تیل کی عالمی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط انداز اپناتے ہوئے خام تیل کی خریداری میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ مزید برآں، عالمی معیشت میں بہتری کی توقعات بھی تیل کی طلب کو بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اس بھاری اضافے کے باوجود ایشیائی مالیاتی منڈیوں میں کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت اور جاندار انداز میں ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کا کاسپی (KOSPI) انڈیکس اور جاپان کا نکئی (NIKKEI) انڈیکس گزشتہ ہفتے کی شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے آج بھی سبز زون (Green Zone) میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔ سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ فی الحال عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کے امکانات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی : گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 6 فیصد کمی
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان اسی طرح برقرار رہا تو عام صارفین کو آنے والے دنوں میں شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خام تیل کے مسلسل اضافے سے کئی ممالک میں پٹرول، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھاری اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، آنے والے دنوں میں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی نظریں ایران امریکا مذاکرات، اوپیک پلس (OPEC+) کی پالیسیوں اور عالمی طلب کے اعداد و شمار پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل طے کریں گے کہ تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی یا مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔




