پاکستان کی آدھی بالغ آبادی فیٹی لیور کے مرض میں مبتلا، ماہرین صحت کا تشویشناک انکشاف

طبی ماہرین نے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی لگ بھگ آدھی بالغ آبادی جگر کی چربی یعنی ‘فیٹی لیور’ کے مرض میں مبتلا ہوچکی ہے۔

پشاور میں منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس کے دوران ماہرینِ صحت نے بتایا کہ ملک میں موٹاپا، جنک فوڈ کا کثرت سے استعمال اور سست طرزِ زندگی اس خطرناک بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔

مرض کی وبائی شکل اور طبی نقصانات:

ماہرین کے مطابق، جگر کی یہ بیماری اب ملک میں ایک وبائی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی زد میں اب صرف بڑے ہی نہیں بلکہ بچے بھی آ رہے ہیں۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ یہ مرض انتہائی خاموشی سے جگر کے کینسر اور جگر کے فیل ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ بیماری ذیابیطس (شوگر) اور دل کے امراض کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ جگر کی اس مخصوص بیماری کو اب جدید طبی اصطلاح میں ‘ایم اے ایس ایل ڈی’ (MASLD) کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پلاسٹک کے ڈبوں میں کھانا فریز کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہے، طبی ماہرین

خواتین ماہرین کی کمی اور نوجوانوں میں کینسر کا پھیلاؤ:

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے کہا کہ پاکستان میں غیر صحت بخش عادات کی وجہ سے جگر کے امراض اب سرفہرست آچکے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل میں آنتوں کے کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں تربیت یافتہ خواتین ماہرینِ جگر کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے جگر کے امراض میں مبتلا خواتین مریضوں کو علاج معالجے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دبلے پتلے افراد کو وارننگ اور بچاؤ کے طریقے:

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سجاد جمیل نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی روزمرہ کی خوراک میں بہتری لائیں اور باقاعدگی سے ورزش کرنے کی عادت اپنائیں۔ انہوں نے ایک اہم نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ یہ مرض صرف موٹے لوگوں کو ہو، بلکہ دبلے پتلے افراد بھی اپنی خراب غذائی عادات کی وجہ سے اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہٹیاں بالا : جنگلی سوروں کا حملہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا شدید زخمی

ماہرینِ صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ جگر کی اس خاموش اور مہلک بیماری سے بچنے کے لیے اتائیوں یا غیر مستند افراد کے پاس جانے کے بجائے ہمیشہ صرف اور صرف مستند اور پروفیشنل ڈاکٹروں سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور صحیح علاج ممکن ہو سکے۔