شدید گرمی کی لہر کے دوران چین کا “روف ٹاپ رین” کولنگ سسٹم دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے خارج ہونے والی باریک پانی کی پھوار کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین اس جدید شہری کولنگ ٹیکنالوجی کو مستقبل کا بہترین حل قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ جدید ترین نظام چین کے شمالی صوبے شانشی کے شہر یون چینگ میں نصب کیا گیا ہے، جہاں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر خصوصی ہائی پریشر مسٹنگ سسٹم لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام نہایت باریک پانی کی بوندیں فضا میں خارج کرتا ہے، جس سے عمارتوں کے اردگرد کا درجہ حرارت تقریباً 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس انوکھے طریقے کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
تبخیری ٹھنڈک کا اصول:
ماہرین کے مطابق چین کا یہ روف ٹاپ رین کولنگ سسٹم تبخیری ٹھنڈک یعنی (Evaporative Cooling) کے اصول پر کام کرتا ہے۔ جب پانی کی یہ باریک بوندیں گرم ہوا کے ساتھ ملتی ہیں تو بخارات میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور وہ اردگرد کی تمام حرارت کو جذب کر لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ماحول نسبتاً ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے۔ یہ عمل بالکل انسانی جسم پر پسینہ خشک ہونے کے قدرتی عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج سے10جولائی تک موسلا دھار بارشیں؟ این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
موسمی اثرات اور نام کی تبدیلی:
سائنسدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام صرف گرم اور خشک موسم میں ہی مؤثر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ پانی کی بوندیں زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی بخارات بن جاتی ہیں۔ اگر درجہ حرارت مناسب نہ ہو تو یہ بوندیں نیچے گر کر معمولی بارش جیسا منظر بھی پیدا کر سکتی ہیں، اسی وجہ سے بعض ماہرین اسے “روف ٹاپ رین” کے بجائے “روف ٹاپ مسٹ” کہنا زیادہ درست اور مناسب سمجھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بحث اور چیلنجز:
یہ منفرد ٹیکنالوجی حالیہ دنوں میں ریڈٹ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکی ہے۔ متعدد صارفین نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ یورپ اور شمالی امریکہ جیسے خطوں میں شدید گرمی کے باوجود اس طرح کا نظام اب تک وسیع پیمانے پر کیوں متعارف نہیں کرایا جا رہا۔
مزید پڑھیں: کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی نوید، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری
اگرچہ یہ کولنگ سسٹم بظاہر انتہائی مؤثر دکھائی دیتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی کارکردگی، پانی کے استعمال، دیکھ بھال اور نوزلز میں معدنیات جمع ہونے جیسے پہلوؤں پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود چین کے مختلف شہروں میں اس نظام کی تنصیب اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔




