اسلام آباد( خصوصی رپورٹ) پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کی حکومت نے جہاں تعلیمی پیکیج کے تحت سیکڑوں ادارے اپ گریڈ کئے ہیں اور نئے ادارے دیئے ہیں وہیں کئی اداروں سے اسامیوں کی منتقلی پر سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔
تعلیمی پیکیج کے تحت پالیسی بنائی گئی ہے کہ مڈل سکول میں12،ہائی سکول میں15 اور ہائیر سیکنڈری سکول میںزیادہ سے زیادہ 21اساتذہ تعینات ہوسکیں گے، باقی اسامیاں منتقل کردی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی پیکیج حکومتی نا اہلی،محسن عزیز نے وزیراعظم فیصل راٹھور کو آڑے ہاتھوں لے لیا
تعلیمی پیکیج کے تحت کئی اداروں کے اساتذہ تبادلوں کے پیش نظر تشویش میں مبتلا ہیں دوسری طرف جن اداروں سے اسامیاں منتقل کی جا رہی ہیں وہاں کی مقامی کمیونٹی بھی سراپااحتجاج بن گئی ہے۔
تعلیمی پیکیج میں سکولوں میں تعداد کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور ایسی پالیسی بنائی گئی جس سے کئی اداروں میں سیکڑوں طلبہ کا مستقبل دائو پر لگنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مظفرآباد کے حلقہ کھاوڑہ میں ہائیر سیکنڈری سکول برسالہ ، ہائی سکول کچیلی،ہائی سکول کوٹ سے اسامیاں دوسرے اداروں میں منتقل کردی گئی ہیں جس پر مقامی کمیونٹی سراپااحتجاج بن گئی ہے۔
حلقہ کھاوڑہ کی یونین کونسل کچیلی کے گائوںکوٹ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما ،ڈسڑکٹ کونسلر راجہ ذوالقرنین قریش نے بتایا کہ ہائی سکول کوٹ جو پہلے سے چھت سے محروم تھا اور اس میں سیکڑوں طلبہ زیر تعلیم ہیں سے 4اسامیاں شفٹ کردی گئی ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس ظالمانہ پالیسی کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کیساتھ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا پڑا تو ضرور کھٹکھٹائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی پیکیج میں کمی پیشی کو دور کیا جائیگا،فیصل راٹھور
راجہ ذوالقرنین قریش کا کہنا تھا کہ تعلیمی پیکیج فراڈ ہے نئے ادارے دینے ہیں تو پرانے اداروں کو کیوں برباد کیا جا رہا ہے ، اگر تعداد کے ایشو پراسامیں منتقل کی جائیں پھر بھی کہا جا سکتا لیکن تعداد پوری ہونے کے باوجود اسامیوں کی منتقلی کسی صورت برداشت نہیں، ہم اس پر جلد لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔
اسی طرح دیگر علاقوں میں بھی اسامیوں کی منتقلی کیخلاف شدید احتجاج سامنے آرہا ہے جبکہ جہاں نئے ادارے قائم ہوئےہیں وہاں خیر مقدم بھی کیا جا رہا ہے۔




