وزیرِ اعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہےکہ ریاست میں عام انتخابات کے انعقاد سے قبل مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ یکسو ہونا انتہائی ضروری ہے اور جب تک اس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، الیکشن شیڈول کا اعلان مشکل ہے۔
ایکشن کمیٹی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرےتاہم انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی عملداری پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کی جانب سے بھاری ترقیاتی فنڈز کے اجرا کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا گیا
وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کےان افواہوں کو تقویت مل رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت مہاجرین نشستیں کم کرنے کیلئے آئینی ترمیم یا آرڈیننس لانا چاہتی ہے۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ہم فی الحال پارلیمانی بورڈ قائم کریں گے نہ ہی انتخابات کی کوئی جلدی ہے لیکن چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نےملاقات میں کہا کہ وعدے پورے کریں اور انتخابات کی تیاری شروع کریں، ساتھ ہی مرکزی قیادت نے 10رکنی پارلیمانی بورڈ بھی قائم کردیا۔
پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے پارلیمانی بورڈ کا ابھی تک کوئی اجلاس نہیں ہوسکا نہ ہی ٹکٹوں کی درخواستیں طلب کی گئی ہیں جبکہ دیگر مسلم لیگ(ن) نے امیدواروں سے انٹرویو بھی مکمل کر لئے ہیں۔
پیپلزپارٹی مہاجر نشستوں میں کمی کیوں چاہتی ہے؟
پیپلزپارٹی کو مستقبل کا سیاسی نقشہ صاف دکھائی دے رہا ہے جس پرپیپلزپارٹی دوبارہ اقتدار آنے کی خاطر نیا حربہ اپنانے کی تیاری کررہی اور ایک تیر سے دو شکار کرناچاہتی ہے۔
پاکستان میں مقیم مہاجرین کی12نشستیں ہیں جن میں سے 8پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا میں 2،2نشستیں ہیں اور یہ نشستیں حکومت سازی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پنجاب کی 8 نشستیں ہمیشہ وہی پارٹی جیتتی ہے جو پنجاب میں اقتدار میں ہوتی ہے، سابق الیکشن میں پی ٹی آئی پنجاب میں برسراقتدار تھی اور 6نشستیں جیتیں تھیں جبکہ 2 پر ن لیگ کامیاب ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی حکومت کی کوشش ہے کہ مہاجرین کی نشستیں 12سے کم کرکے 6 کردی جائیں جس ایک تو فائدہ یہ ہے کہ پنجاب میں 8 کے بجائے صرف 4نشستیں رہ جائیں گی ، کے پی اور سندھ میں بھی ایک ایک نشست کردی جائیگی۔
پیپلزپارٹی کے پلان کے مطابق کے پی سے پیپلزپارٹی کے عبدالماجد خان، سندھ سے بھی پی پی امیدوار آسانی سے کامیاب ہوجائیں گے، پنجاب کی 4نشستیں مسلم لیگ(ن) کو مل بھی گئیں توکوئی خاص فرق نہیں پڑیگا کیونکہ کہاں4نشستیں اور کہاں 2نشستیں۔
یہ بھی پڑھیں:مہاجرین نشستوں کا معاملہ یکسو ہونے تک الیکشن شیڈول کا اعلان مشکل ہے، فیصل راٹھور
پیپلزپارٹی کے پلان کے مطابق مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی پیپلزپارٹی کی طرف مائل ہوجائیگی اور ووٹ بینک میں اضافہ ہونے سے آزادکشمیر میں پوزیشن مستحکم ہوجائیگی۔
مسلم لیگ(ن)کے رہنمائوں کا موقف ہے کہ مہاجرین کی نشستوں میں کوئی کمی پیشی ہوسکتی ہے نہ ختم ہوسکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پلان میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر نشستیں ختم نہیں ہوتیں تو کم ازکم انتخابات کو التواء کا شکار کردیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر 25مئی تک الیکشن شیڈول جاری کرنے کا عندیہ دے چکے ہیںجبکہ ایکشن کمیٹی نے 9جون کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ موجودہ صورتحال میں آنیوالے دن انتہائی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔




