کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل) چوہدری محسن عزیز امیدوار برائے حلقہ ایل اے 17پاکستان مسلم لیگ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج حویلی کی صورت حال یہ ہے کہ لوگ آٹے کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔
مضافات حویلی میں آٹا نہیں کہوٹہ شہر کے اندر ڈپو سے ہی آٹا غائب ہو جاتا ہے۔ آٹے کی ایک تھیلی کے لیے جو صرف 1000روپے کی ہے لوگ دور دراز سے ہزاروں خرچ کر کے آٹے کی ایک تھیلی لے جانے پر مجبور ہو گئے۔
جو آٹا سبسڈی والا لے کر جاتے ہیں غیر معیاری آٹا ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کے اپنے حلقے کی یہ حالت ہے تو آزادکشمیر کے باقی اضلا ع کا کیا حال ہو گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی، بھارت اپنی پوزیشن واضح کرے ،عباس عراقچی
یہ سوائے وزیر اعظم آزاکشمیر کی ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں۔انہوں نے کہ کہا کہ 48گھنٹے کو وقت آٹے کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اس کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے بصورت دیگر عوام اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاکشمیر کے طرف سے بلا سود قرضے کے لیے پراجیکٹ لانچ کیا گیا لیکن اب اس میں ایسی کنڈیشن دیکھنے میں آئی کہ لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے افراد اس کے اہل نہیں ہو پائیں گے۔
اگر یہ بات تھی تو یہ پہلے فیز میں بھی بتا دینی چاہیے تھے عوام سے 2,3ہزار روپے لینے ان کا وقت برباد کرنے کیا کیا ضرورت تھی کم از کم وہ اس خواری سے تو بچ جاتے ۔ہماری تقریباً 80فیصد آبادی لائن آف کنٹرول پر واقع ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آئی سی سی نے سلو اوور ریٹ پر پاکستان ٹیم جرمانہ عائد کر دیا
چوہدری محسن عزیز نے کہا کہ ہیلتھ پیکیج میں جو ڈسپینسریاں پہلے سے کام کر رہی تھی انہیں ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ہم نے دی یہ ایسے ہے جیسے ایک بندے کے منہ سے نوالا چھین کر دوسرے کو دیں یہ کونسا پیکیج ہے۔
انہوں نے ایجوکیشن پیکیج میں اگر بات کی جائے تو بوائز ڈگری کالج کہوٹہ، کی 49آسامیاں ہیں اسی طرح گرلز ڈگری کالج کہوٹہ کی 37اور خورشید آباد کی بھی 37آسامیاں ہیں جنہیں پر کیا جانا مطلوب تھا بجائے اس کے کہ آسامیوں کو فُل فَل کیا جائے۔۔
18آسامیوں کی بناد پر مزید اپ گریڈیشن عجیب منطق ہے۔جہاں پر تعلیم کا معیار بہتر نہ ہو ایسے ماڈل ڈگری کالج کا اعلان سمجھ سے بالا تر ہے انتہائی مایوسی ہوئی۔




