خاتون کے ہاں 5دن میں 4بچوں کی پیدائش،غیر معمولی طبی واقعہ پرڈاکٹرز بھی حیران

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں نہایت غیر معمولی طبی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے 5دنوں کے وقفے میں چار بچوں کو جنم دیا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام ولادتیں آپریشن کے بغیر نارمل ڈلیوری کے ذریعے ہوئیں جبکہ حمل کو ابتدا ہی سے ’ہائی رسک‘ قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گرتی ہوئی آبادی کو روکنے کا انوکھا منصوبہ، تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر ہزاروں روپے انعام کا اعلان

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور گزشتہ روز (16 مئی کو) وسطی ریاست آندھر پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خواتین کے لیے انعام کا اعلان کیا ہے جس میں تیسرے بچے کی ولادت پر 30 ہزار روپے اور چوتھے بچے کی ولادت پر 40 ہزار روپے کی مالی اعانت کا اعلان کیا ہے۔

مرادآباد میں 4بچوں کی ولادت کے واقعے نے نہ صرف طبی حلقوں بلکہ عام لوگوں میں بھی دلچسپی پیدا کر دی ہے کیونکہ ایک ساتھ چار بچوں کی ولادت خود ایک نادر واقعہ تصور کیا جاتا ہے اور وہ بھی مسلسل پانچ دنوں کے دوران نارمل ڈلیوری کے ذریعے۔ طبی اعتبار سے اسے غیرمعمولی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

مرادآباد کے لودھی پور علاقے میں واقع تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی ہسپتال کے مطابق سنبھل ضلع کے اوواری گاؤں کی رہائشی آمنہ نے 9 مئی کو اپنے پہلے بچے کو جنم دیا جبکہ بعد کے تین بچوں کی پیدائش 14 مئی کو ہوئی۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ماں اور تمام نومولود اس وقت طبی نگرانی میں ہیں اور احتیاطی طور پر بچوں کو وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا گیا ہے، تاہم ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس میڈیکل ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شبھرا اگروال کر رہی ہیں۔ان کے مطابق ہسپتال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب 4بچوں کی پیدائش مکمل طور پر نارمل ڈلیوری کے ذریعے ہوئی ہو۔

ڈاکٹر اگروال نے بتایا کہ ’آمنہ کا علاج حمل کے تیسرے مہینے سے جاری تھا، جب الٹراساؤنڈ میں چار جنین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن تھیٹر میں سی سیکشن کا مقابلہ،حکومت کا سخت ایکشن،ڈاکٹرز معطل

چونکہ ایک ساتھ چار بچوں کا حمل ماں اور بچوں دونوں کے لیے خطرناک تصور کیا جاتا ہے، اس لیے ڈاکٹروں نے ابتدا میں جنین کی تعداد کم کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر خاندان نے تمام بچوں کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر رولی اگروال، ڈاکٹر پورتی چھنّا اور دیگر طبی عملے نے کئی مہینوں تک مسلسل نگرانی کے ذریعے اس پیچیدہ حمل کو سنبھالا۔

آمنہ کے شوہر محمد علیم نے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے نہایت احتیاط اور محنت کے ساتھ اس کیس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

طبی ماہرین کے مطابق ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش، جسے ’کواڈروپلیٹس‘ کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں انتہائی کم دیکھی جاتی ہے۔

قدرتی طور پر ایسے حمل کے امکانات قریباً سات لاکھ میں ایک سمجھے جاتے ہیں لیکن جدید بانجھ پن کے علاج اور آئی وی ایف جیسی تکنیکوں کے بعد اس طرح کے معاملات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انڈیا میں اس سے پہلے ممبئی، حیدرآباد اور کیرالا جیسے شہروں میں چار یا پانچ بچوں کی پیدائش کے چند واقعات سامنے آ چکے ہیں لیکن نارمل ڈلیوری کے ذریعے ایسا ہونا اب بھی غیرمعمولی مانا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ملک میں مجموعی شرح پیدائش کم ہو رہی ہے تو دوسری جانب بانجھ پن کے علاج اور جدید تولیدی ٹیکنالوجی کے باعث جڑواں، تین یا چار بچوں کی پیدائش جیسے معاملات نسبتاً زیادہ رپورٹ ہونے لگے ہیں۔

دیہی علاقوں میں اب بھی ایسے واقعات کو خدا کی خاص نعمت اور معجزہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ طبی دنیا انہیں پیچیدہ اور حساس حمل کی مثال کے طور پر دیکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈاکٹرز کا بڑاکارنامہ،7ماہ کے جڑواں بچوں کی بینائی بحال

ایک ایسا ملک جہاں آبادی میں اضافے کی رفتار سست پڑ رہی ہے، وہاں ایک غریب دیہی خاندان میں ایک ساتھ چار بچوں کی آمد نہ صرف خوشی بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی بن گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس تعلق سے حیرت، خوشی اور مزاحیہ تبصروں کا دلچسپ امتزاج نظر آ رہا ہے۔کئی صارفین نے اسے ’قدرت کا معجزہ‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹروں اور ماں کی ہمت کی تعریف کی۔

ایکس اور فیس بک پر متعدد صارفین نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ ’ایک ساتھ دو لڑکے اور دو لڑکیاں، گویا پورا کنبہ ایک ہی بار میں مکمل ہو گیا۔