اوپن اے آئی کا نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ چیٹ جی پی ٹی متعارف

امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے منگل کے روز نوجوانوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا خصوصی ورژن متعارف کرا دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد 13 سے 17 سال کی عمر کے صارفین کو مصنوعی ذہانت تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ کمپنی کے بیان کے مطابق اس نئے ورژن میں نوعمر صارفین کی عمر اور ذہنی نشوونما کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے حفاظتی نظام ترتیب دیا گیا ہے۔

نوعمر افراد کے لیے تیار کردہ اس چیٹ جی پی ٹی میں فحش اور نامناسب مواد، خود کو نقصان پہنچانے، خودکشی، اور جنسی و رومانوی گفتگو سے متعلق مواد پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مزید برآں، اس چیٹ بوٹ کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کو محض ہوم ورک کے جوابات فراہم کرنے کے بجائے مسائل کو خود حل کرنے اور مختلف تصورات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کا مقصد رٹنے کے رجحان کے بجائے فعال انداز میں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ذہنی نشوونما کے مطابق رہنمائی اور خودکار منتقلی کا نظام:

اوپن اے آئی کی عالمی پالیسی کی نائب صدر این او لیری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کمپنی نوجوانوں کو بچوں کی طرح مخاطب کرنے کے بجائے ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا چاہتی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایسے مواد سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے جس تک ان کی رسائی مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غلط طبی مشورہ دینےپر چیٹ جی پی ٹی پر پہلا مقدمہ درج

کمپنی کی جانب سے صارفین کی عمر کا اندازہ ان کے سوالات اور رویوں کی بنیاد پر لگایا جائے گا، اور نابالغ قرار پانے والے صارفین کو خودکار طور پر نوعمر افراد کے لیے تیار کردہ اس مخصوص ورژن پر منتقل کر دیا جائے گا۔

والدین کے لیے کنٹرول اور حفاظتی اطلاعات کی سہولت:

نئے نظام کے تحت والدین یا سرپرست نوعمر صارف کے اکاؤنٹ سے اپنا اکاؤنٹ منسلک کر سکتے ہیں، جس کے ذریعے وہ مخصوص اوقات میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کو روکنے کے لیے ’کوآئٹ آورز‘ مقرر کرنے کے اہل ہوں گے۔ کسی بھی خطرناک صورتحال، جیسے کہ خود کو نقصان پہنچانے کے اشارے یا کھانے سے متعلق عوارض کے خدشے کی صورت میں، والدین کو حفاظتی اطلاع بھی فراہم کی جائے گی، تاہم اس دوران صارفین کی رازداری کا بھی مکمل خیال رکھا جائے گا۔

اوپن اے آئی کے مطابق، اگر والدین کی جانب سے یہ کنٹرول فعال نہ بھی کیا جائے، تب بھی یہ چیٹ بوٹ نوجوانوں کے لیے طے شدہ حفاظتی پابندیوں کے ساتھ ہی کام کرتا رہے گا۔