عاصم افتخار

سلامتی کونسل میں ویٹو اختیار کیخلاف پاکستان نے دوٹوک موقف اپنا لیا

اقوام متحدہ میں پاکستان نے سلامتی کونسل کے ویٹو اختیار کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اس کے خاتمے یا کم از کم سخت پابندیوں کا مطالبہ کر دیا ۔

نیویارک میں بین الحکومتی مذاکرات کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل میں بار بار پیدا ہونے والا تعطل مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو کے ناجائز استعمال کا نتیجہ ہے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین رکاوٹ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے ،عاصم افتخار

انہوں نے کہا کہ ویٹو اختیار موجودہ دور میں فرسودہ نظام کی عکاسی کرتا ہےاور اس کے باوجود نئے مستقل اراکین کو ویٹو دینے کی تجاویز تضاد کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ یا تو ویٹو اختیار کو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا اس کے استعمال کو سختی سے محدود کیا جائے۔

عاصم افتخاراحمد نے کہا کہ پاکستان ویٹو اختیار میں کسی بھی توسیع یا نئے مستقل اراکین کے اضافے کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے عالمی مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے۔

انہوں نے ویٹو کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس حوالے سے موثر کردار دیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے تجویز پیش کی کہ سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کے بجائے منتخب اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ طاقت کا توازن بہتر ہو سکے اور ویٹو کے استعمال کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے اقوام متحدہ میں غزہ قرارداد پر امریکی ویٹو کو ’’سیاہ لمحہ ‘‘ قرار دیدیا

ان کے مطابق اگر کونسل کے اراکین کی تعداد زیادہ ہوگی تو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنا آسان نہیں رہے گا کیونکہ اس کے لیے وسیع اکثریت کی مخالفت درکار ہوگی۔

آخر میں پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کو ایک جامع پیکج کے طور پر دیکھا جائے اور اگر حقیقی اصلاحات مطلوب ہیں تو کسی بھی ملک کو خصوصی مراعات نہیں دی جانی چاہئیں۔

Scroll to Top