امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فیلڈ مارشل زبردست ہیں اور اچھا کام کررہے ہیں ، ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوسکتا ہے ۔ ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ مذاکرات کا دور آئندہ دو روز میں اسلام آباد میں ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کررہے ہیں ۔ آئندہ دو دنوں میں بہت کچھ ہوسکتا ہے ۔
ٹرمپ نے صحافی کو مشورہ دیا کہ آپ کو وہاں رہنا چاہیے اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے وہاں جانے کا امکان زیادہ ہے پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دودھنیال :عابد افضل بٹ کا تگڑا وار، درجنوں افراد مسلم کانفرنس میں شامل
کسی اور ملک میں مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ نے دوٹوک کہا کہ ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملےسے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی ناکہ بندی ناکام، ایران سے منسلک 4 بحری جہاز رکاوٹیں عبور کرگئے
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام موجودہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ دوسری براہِ راست ملاقات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان اس وقت ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ “ذاتی ملاقات” کے ایجنڈے اور مقام پر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سابق وزیرٹرانسپورٹ جاوید بٹ کیخلاف کارروائی کیلئے درخواست دائر
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے، تاہم عمان یا مشرقِ وسطیٰ کے کسی اور ملک کو بھی بطور متبادل زیرِ غور رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے دوران ایران نے پانچ سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے اور اپنا پہلے سے موجود انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بیرونِ ملک منتقل کرے۔




