گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک قرارداد کی متفقہ منظوری دی ہے جس میں وفاقی حکومت سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے اور این ایف سی ایوارڈ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان سے الحاق کیاجبکہ اس کے بعد مختلف ادوار میں وفاقی حکومتوں نے اس خطے کو قومی آئینی دھارے میں شامل کرنے کے لیے متعدد آئینی اور انتظامی اقدامات کئے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت سہولت پروگرام بحال، وفاقی وزیر صحت نے بڑے اعلانات کر دیے
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 کے ذریعے منتخب قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی اورسابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر گلگت بلتستان آرڈر 2018 نافذ کیا گیا، جس کے تحت اسمبلی کو دیگر صوبائی اسمبلیوں کے مساوی قانون سازی کے اختیارات دیے گئے۔
قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو عارضی آئینی صوبے کا درجہ دے کر وہاں کے عوام کو دیگر صوبوں کے شہریوں کی طرح قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر وفاقی آئینی اداروں میں نمائندگی، مکمل آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق فراہم کیے جائیں۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک عبوری آئینی صوبائی حیثیت نہیں دی جاتی، اس وقت تک گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن، یعنی این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے تاکہ قومی وسائل میں خطے کا منصفانہ حصہ یقینی بنایا جا سکے۔
مشترکہ قرارداد میں بھارت کے 5اگست 2019کے اقدامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے پاکستان کے مسئلہ جموں و کشمیر پر تاریخی، قانونی اور اصولی موقف پر کوئی اثر نہیں پڑیگا اور یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مستقبل کے کسی بھی ممکنہ تصفیے سے مشروط ہوگا۔
قرارداد کے اختتام پر وفاقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد ضروری آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات کا آغاز کیا جائے، تاکہ خطے کے عوام کی آئینی اور جمہوری محرومیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں وفاق پاکستان میں مکمل اور باوقار نمائندگی فراہم کی جا سکے۔
قرارداد میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو قومی سیاسی، آئینی اور اقتصادی دھارے میں مکمل طور پر شامل کیا جائے گا جبکہ مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کا تاریخی اور اصولی موقف ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:مرکزی الیکشن آفس کا افتتاح ،اچھل کود کرنیوالے گلگت بلتستان میں تیسرے نمبر پر آئے، لطیف اکبر کا ن لیگ پر طنز
وزیر اعلی امجد حسین ایڈووکیٹ ، اپوزیشن لیڈر حافظ حفیظ الرحمان، پیپلزپارٹی کے رکن سید جلال علی شاہ، ڈپٹی سپیکر ملک کفایت الرحمان ،مسلم لیگ ن کے رکن فرمان علی، استحکام پاکستان پارٹی کے محمد دلپذیر کی یہ مشترکہ قرارداد جمعرات کے روز پیپلزپارٹی کے سید جلال علی شاہ نے ایوان میں پیش کی۔
ایوان میں موجود تمام ممبران نے قرارداد کی حمایت کی جس پر ڈپٹی سپیکر ملک کفایت الرحمان نے قرارداد کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔




