آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب، اسرائیلی میڈیا

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈرمنتخب کرلیا گیا تاہم ایران کے سرکاری حکام کی جانب سے اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اسمبلی آف ایکسپرٹس کی جانب سے کیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی شہر گراش میں 4.3 شدت زلزلے کے جھٹکے ،گہرائی 10 کلومیٹر،امریکی زلزلہ پیما مرکز

ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر مجلسِ خبرگان یعنی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8 سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

قبل ازیں مجتبیٰ خامنہ ای کی خیریت کے بارے میں بڑا بیان سامنے آیا تھا، ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی حملے کا نشانہ نہیں بنے اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔

مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور انہیں ملک کے بااثر مذہبی اور سکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طاقت کا اندھا دھند استعمال ناقابل قبول، ایران کے خلاف فوجی آپریشن فوری روکا جائے: چین

یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دوران علاج جانبر نہ ہونے کی خبروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں متضاد اطلاعات کو فروغ دیا تھا۔

Scroll to Top