ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری کے ’’لاپتہ افراد‘‘ میں شامل ایک اور شخص بی ایل اے کمانڈر نکلا

بی ایل اے کے ٹویٹر اکاؤنٹ باہوت بلوچ نےاتور کے روز بی ایل اے کے حقال میڈیا کی جانب سے جس سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے ، سلیم بلوچ کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

ایمان حاضر مزاری اور ماہ رنگ بلوچ ماضی قریب میں اسی سلیم بلوچ کو مسنگ پرسن قرار دے کر بازیابی کے لیے شور شرابہ مچاتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سلامتی کونسل سےبی ایل اے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ماہ رنگ بلوچ اور ایمان حاضر مزاری کی جانب سے ماضی میں جس شخص کو لاپتہ قرار دے کر پیش کیا گیا تھا، اب اسی شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بلوچستان لبریشن آرمی کا کمانڈر تھا۔

 

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کو پہلے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کر کے اس کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اب اس شخص کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عسکری تنظیم سے وابستہ تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں تاہم ایمان مزاری اور ماہ رنگ بلوچ جس کو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کرکے شور مچاتی رہیں وہ در اصل بی ایل اے کا کمانڈر تھا ۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے نام پرگھٹیا دھندہ کیا جارہا ہے ،عام عوام کو مار کر یہ لوگ انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھتے اور شور شرابا کرتے ہیں ۔

باہوت بلوچ کے اکائونٹ پر تصدیق کی گئی ہے کہ سلیم بلوچ نے تربت میں پاک فوج سے لڑائی کی اور جہنم واصل ہوا اور یہ نوجوان پنجاب یونیورسٹی سے پڑھ کر گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی پشین میں پاک افغان سرحد پر کارروائی، ماسٹر مائنڈسمیت 7خوارج مارے گئے

ماہ رنگ لانگو کے اکائونٹ پر بھی کہا گیا کہ یہ لاپتہ ہے حالانکہ یہ سلیم بلوچ بی ایل اے کا کمانڈر تھا اور تربت میں پاک فوج پر حملے میں ملوث تھا۔

ایمان مزاری کے ایکس اکائونٹ پر بھی رونا رویا گیا تھا کہ سلیم بلوچ لاپتہ ہے اب حقیقت آشکار ہوچکی کہ سلیم بلوچ جو جہنم واصل کیا گیا ہے، یہ دراصل دہشتگرد کمانڈر تھا جسے فورسز نے جہنم بھیج دیا ہے ۔

Scroll to Top