بلوچستان کے علاقے پشین میں سکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ۔
کارروائی پاک افغان سرحد کے قریب کی گئی، جس میں 7 رکنی دہشت گرد گروہ ہلاک ہو گیا ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ گروہ خارجی کمانڈر بصیر کی ہدایت پر تخریب کاری کے ارادے سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اس گروہ میں شامل خارجی کمانڈر نصیر کو 30 ستمبر کو ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے ۔
سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے دہشت گردوں کی تشکیل کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور علاقے کو کلیئر کر دیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغان صوبہ ننگرہار،پکتیکااورخوست میں فتنہ الخوارج کےٹھکانوں پربڑی کارروائی ، 80سےزائدخارجی ہلاک
اس کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی خطرے کو بروقت ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
اسی دوران خیبر پختونخوا کے بنوں میں بھی انسداد دہشت گردی کی کارروائی میں اہم پیشرفت ہوئی۔ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک گرفتار کمانڈر اسامہ عرف دانیال المعروف باغی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا ۔
اسامہ نئی دہشت گرد تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان کا سرگرم رکن اور مبینہ ماسٹر مائنڈ تھا۔ ہلاکت اس وقت ہوئی جب دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اور اس دوران زیرِ حراست دہشت گرد کمانڈر مارا گیا ۔
یہ کارروائیاں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف مستقل اور مؤثر اقدامات کو ظاہر کرتی ہیں ۔ دونوں آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردوں کی منصوبہ بندی ناکام بنائی بلکہ سرحدی اور اندرونی علاقوں میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹی 20 ورلڈ کپ سُپر 8 مرحلہ ، انگلینڈ نے سری لنکا کو 51 رنز سے شکست دے دی
سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے کسی بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور ملک بھر میں عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے ۔




