باسط علی

باسط علی کا ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل

سابق پاکستانی کرکٹر باسط علی نے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بابر اعظم کے اسٹرائیک ریٹ پر بات کرنا دراصل ان کی تعریف نہیں بلکہ بے عزتی کے مترادف ہے ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے باسط علی کا کہنا تھا کہ جب ٹیم کا ہیڈ کوچ یہ کہتا ہے کہ پاور پلے میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم ہے، اس لیے انہیں 12 اوورز کے بعد بیٹنگ کے لیے نہیں بھیجا جا سکتا، تو یہ بیان ایک بڑے کھلاڑی کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے ۔

ان کے مطابق اگر بابر اعظم کو پاکستان کا نمبر ون بیٹر کہا جا رہا ہے تو پھر ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو ان پر تنقید یا سوال اٹھاتے ہوں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:رکی پونٹنگ نے سپر ایٹ مرحلے میں صائم ایوب کو گرین شرٹس کا اہم ترین کھلاڑی قرار دیا

باسط علی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی ٹیم کسی ایک کھلاڑی کے گرد نہیں گھومتی اور نہ ہی کوئی فرد کھیل سے بڑا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی دباؤ کو جواز بنا کر فیصلے کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ٹیم کے مفاد کو ہمیشہ ترجیح ملنی چاہیے ۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس وقت تمام گفتگو کا مرکز صرف بابر اعظم بن چکے ہیں، جبکہ ان کھلاڑیوں پر بات نہیں ہو رہی جو ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے۔ ان کے خیال میں یہ توازن درست نہیں اور ٹیم کے مجموعی ڈھانچے پر بھی بات ہونی چاہیے ۔

دوسری جانب سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے کہا کہ بابر اعظم کو ایشیا کپ میں نہ کھلانا ایک ضائع شدہ موقع تھا۔ ان کے مطابق یہ بہترین وقت تھا کہ انہیں موقع دے کر فارم اور تیاری کا اندازہ لگایا جاتا تاکہ ورلڈ کپ سے پہلے واضح حکمت عملی بنائی جا سکتی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون کی اپنی گرل فرینڈ صوفی شائن سے دوسری شادی

انہوں نے مزید کہا کہ اب جب بابر کارکردگی نہیں دکھا پا رہے تو وہی سوالات دوبارہ اٹھ رہے ہیں، جن سے بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے بچا جا سکتا تھا ۔

Scroll to Top