عمان مذاکرات کا پہلا دور مکمل،ایران نے یورینیم افزودگی روکنے کاامریکی مطالبہ مسترد کردیا

ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات کا پہلادور مکمل ہوگیاجس میں ایران نے یورینیم افزودگی روکنےکا امریکی مطالبہ مستردکردیاہے۔

مذاکرات میں ایرانی وفد کی نمائندگی ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکا کی نمائندگی امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی :پاکستان کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت

ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ عمان میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا تازہ ترین دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں وفود اپنے اپنے ممالک واپس روانہ ہوں گے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد کے ساتھ موجود ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق‘ پایا گیا ہے۔

مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت مثبت رہی دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سفارت کاری ناکام ہوئی تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں۔

ادھر ایران امریکا مذاکرت سے منسلک علاقائی سفارتکار نے بتایا کہایران نے یورینیم افزودگی روکنےکا امریکی مطالبہ مستردکردیاہے اور ایران افزودگی کی سطح اور خالصیت یا کسی علاقائی کنسورشیم پربات چیت کےلیےتیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اوباما اور انکی اہلیہ کی نامناسب تصویر شیئر کردی، امریکا میں ہنگامہ

سفارتکار کے مطابق تہران کاخیال ہے امریکی مذاکرات کار ایران کےافزودگی سےمتعلق موقف کو سمجھتے نظر آئے، امریکی مذاکرات کاروں نے تہران کے مطالبات پر لچک کا مظاہرہ کیا۔

علاقائی سفارتکار نے بتایا کہ مسقط میں جاری مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں پرکوئی بات نہیں ہوئی۔

Scroll to Top