مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور مہاجرین جموں کشمیر کی ورکنگ کمیٹی کے درمیان مہاجرین کو درپیش سنگین مسائل کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں مہاجرین کی جانب سے ماہانہ گزارہ الاؤنس میں اضافے کے نوٹیفکیشن کا فوری مطالبہ کیا گیا۔ملاقات کے دوران سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے ورکنگ کمیٹی کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کے مطالبات حکومتِ پاکستان کے متعلقہ حکام تک تحریری طور پر پہنچا دیے گئے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فریال تالپورمیرپور پہنچ گئیں،بیرسٹر سلطان کے انتقال پرتعزیت،اہم فیصلے متوقع
اُن کا کہنا تھا کہ امید ہے وزیراعظمِ پاکستان 5 فروری کو مظفرآباد کے متوقع دورے کے دوران مہاجرین کے ماہانہ گزارہ الاؤنس میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
اس موقع پر مہاجرین جموں کشمیر کی ورکنگ کمیٹی نے حکومتی اعلیٰ عہدیداروں کو واضح الفاظ میں آگاہ کیا کہ مہاجرین اب محض وعدوں اور یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں رکھتے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شجرکاری کی بجائے شجر کشی: جنگل کی کٹائی میں محکمہ جنگلات بھی شامل؟
ورکنگ کمیٹی نے حکومتِ آزاد کشمیر کو اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے 3 فروری کی رات بارہ بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ماہانہ گزارہ الاؤنس میں 1500 روپے فوری اضافہ کیا جائے۔
تمام مہاجرین خاندانوں کے لیے یکساں مالی پیکج کا اعلان کیا جائے،اور مہاجرین کے لیے چھ فیصد کوٹہ بحال کیا جائے۔
ورکنگ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومتِ آزاد جموں کشمیر نے مقررہ وقت تک مہاجرین کے مسائل حل نہ کیے تو 4 فروری سے بھوک ہڑتال کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔




