آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے نواحی علاقے موضع آویڑہ، چھتر نمبر 1، کمپارٹمنٹ نمبر 27 میں گھنے جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کا انکشاف ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات کے بعض حکام اور واچرز کی مبینہ ملی بھگت سے قیمتی درخت ووڈ کٹر جیسے ممنوعہ آلات سے کاٹے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پورا علاقہ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمی خطرات کے پیش نظر جنگلات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، لیکن چھتر نمبر 1 میں غیر قانونی کٹائی جاری ہے، جبکہ ملک بھر میں شجرکاری مہم کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ چند دنوں میں ووڈ کٹر کے ذریعے گھنا جنگل چٹیل میدان میں تبدیل ہو رہا ہے اور قیمتی لکڑی ٹرکوں کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ محکمہ جنگلات کے افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آگئے
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا کہ اتنی بڑے پیمانے پر کٹائی محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام اور فیلڈ اسٹاف کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ متعدد شکایات کے باوجود کسی کارروائی نہ ہونے سے محکمہ کی کارکردگی اور نیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عوام نے غیر قانونی کٹائی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر محکمہ جنگلات نے فوری طور پر کٹائی نہ روکی تو وہ دفتر کا گھیراؤ کریں گے اور احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دیں گے۔
مزید پڑھیں: نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، دہشت گردوں سے جدید اسلحہ برآمد
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق بے دریغ کٹائی سے لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب، موسمی شدت میں اضافہ اور قدرتی وسائل کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کی ذمہ داری براہ راست متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔




