آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل چڑہوئی کے نواحی علاقے براٹلہ میں ایک خاندان میں 2ماہ کے دوران دو بھائیوں سمیت تیسری ہلاکت سے خاندان ٹوٹ کر رہ گیا وہیں علاقہ میں بھی تشویش پھیل گئی ہے۔
تحصیل چڑہوئی کے نواحی علاقے براٹلہ میں دو ماہ قبل فریاد بٹ نامی نوجوان کو قتل کیا تھا جس کی لاش جنگل سے ملی اور مقدمہ درج کیا گیا لیکن ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے،اسی دوران فریاد بٹ کے ایک کزن نے خودکشی کی جبکہ گزشتہ روز مقتول فریاد بٹ کے بھائی عتیق بٹ نے بھی اپنے آپ کو گولی مار زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیلم پل سے نوجوان لڑکی کی خودکشی کی کوشش، شہری کی بروقت کارروائی سے جان بچ گئی
ایک ہی خاندان میں تیسرے نوجوان کی ہلاکت پر جہاں ہر کوئی ہل کر رہ گیا وہی خودکشی کرنے والے عتیق بٹ کے والد کی آہ وبکا کی کئی دل دہلا کررکھ دیئے ہیں وہیں نظام انصاف پر سوالات بھی اٹھ گئے ہیں۔
بزرگ کا آہ وبکا کے دوران کہنا تھا کہ پتا ہوتا تو یہ علاقہ چھوڑ جاتا ، مجھے معلوم ہوتا یہ علاقہ چھوڑ جاتا،بزرگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
دوسری طرف ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر چڑہوئی چوہدری نزاکت، ڈی ایس پی کوٹلی چوہدری شہزاد، نائب تحصیلدار چڑہوئی سید فیاض حسین اور پولیس تھانہ ناڑ بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔
انتظامیہ اور پولیس نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا، ابتدائی معلومات حاصل کیں اور خودکشی میں استعمال ہونے والا پستول سمیت دیگر اشیاء کو تحویل میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اور سیمپل بھی جمع کر لیے گئے ہیں، تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا سکے،تفتیشی عمل کے دوران مختلف امکانات کو مدِنظر رکھا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے فریاد بٹ قتل کیس کے تناظر میں اسکی بیوہ کے کردار سے متعلق بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا جسے ذرائع کے مطابق گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چناری چھم آبشار واقعہ،خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا انکشاف
ڈی ایس پی کوٹلی چوہدری شہزاد نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کیس کی باریک بینی سے تفتیش کررہے ہیں اور خاندان کو تفصیلات سے آگاہ کیا جبکہ ایک ملزم بھی زیر حراست ہے۔
خاندان کی طرف سے جن کو نامزد کیا گیا ہے ان سے تفتیش جاری ہے ہم لواحقین کو انصاف دلائیں گے۔قبل ازیں فریاد بٹ قتل کیس کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر میت کی تدفین سے انکار کردیا تھا۔




