چناری چھم آبشار واقعہ،خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا انکشاف

جہلم ویلی(کشمیر) ایس پی ضلع جہلم ویلی عباس علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مورخہ 26 دسمبر 2025 کو باوثوق ذرائع سے پولیس کو اطلاع ملی کہ چھم آبشار (تھیم آبشار) کے مقام پر ایک خاتون کی نعش پڑی ہوئی ہے۔

اطلاع ملتے ہی SHO تھانہ چناری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچا جہاں دیبہ چھم کے معززین سمیت 25 سے 30 مرد و خواتین موجود تھے۔

نعش کی شناخت شائستہ حمید زوجہ ماجد عزیز کے نام سے ہوئی۔ابتدائی طور پر متوفیہ کے والد عبدالحمید اور چچا عبدالعزیز نے موقع پر بیان دیا کہ شائستہ حمید پر جنات کا سایہ تھا اور وہ حادثاتی طور پر آبشار سے گر کر جاں بحق ہوئی کسی پر کوئی شک نہیں اور وہ کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں چاہتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:149 بجلی گھروں میں چشمہ ،کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی بہترین قرار

اس موقع پر معززین کی جانب سے ایک پنچایت نامہ بھی پیش کیا گیا جس میں موت کو اتفاقیہ قرار دیا گیا۔تاہم پولیس کے مطابق موقع کا جائزہ لینے پر آبشار کی اونچائی تقریباً 300 سے 350 فٹ پائی گئی

جبکہ ضابطہ کے تحت معائنہ میں متوفیہ کے جسم پر سر کے زخم کے علاوہ اونچائی سے گرنے کی کوئی بڑی چوٹ یا فریکچر موجود نہ تھا جس پر موت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال ہٹیاں بالا منتقل کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی اور دفعہ 174 ض ف کے تحت کارروائی شروع کی گئی۔تحقیقات کے دوران بعد ازاں انکشاف ہوا کہ متوفیہ شائستہ حمید حاملہ تھی جس پر والدین کے درمیان تنازعہ ہوا۔

تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر والد عبدالحمید نے غصے میں آ کر پتھر سے سر اور کمر پر وار کئے جس سے شائستہ حمید جان کی بازی ہار گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:تیسری عالمی جنگ:بابا وانگا کی سال 2026 کیلئے حیران کن پیشگوئیاں

بعد ازاں واقعہ کو چھپانے کے لیے نعش کو چھم آبشار میں پھینک دیا گیا اور اسے جنات کا سایہ قرار دے کر گمراہی پیدا کی گئی۔

پولیس کے مطابق اس سارے واقعہ کا علم متوفیہ کی والدہ، ساس اور خالہ کو بھی تھا جنہوں نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی ایچ او حویلی ڈاکٹر تسکین راٹھور ان ایکشن، اجلاس طلب، اہم ہدایات جاری

مزید یہ کہ ابتدائی طور پر مدعی مقدمہ عبدالعزیز نے حقیقت جاننے کے باوجود واقعہ کو حادثہ قرار دیا، بعد میں مقدمہ درج کروایا مگر کسی کو نامزد نہ کیا، جس پر اب انہیں بھی بطور ملزم ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے مقدمہ نمبر 100/25 زیر دفعہ 302 تعزیرات پاکستان درج کرتے ہوئے چھ ملزمان عبدالحمید، عبدالعزیز، نصیر، گلشن بی بی، ناظمہ بی بی اور امرین بی بی کو گرفتار کر کے پولیس ریمانڈ حاصل کر لیا ۔

تمام ملزمان اس وقت پولیس لاک اپ میں ہیں اور تفتیش میرٹ پر جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ سنگین واقعہ علاقائی بدنامی سے بچنے کیلئے چھپانے کی کوشش کی گئی

تاہم تمام پہلوؤں سے باریک بینی سے تفتیش جاری ہے اور مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں

Scroll to Top