بھارتی ریاست میں خطرناک نِپاہ وائرس کے دو کیسز سامنے آ گئے، صورتحال کتنی سنگین ہے؟

نِپاہ وائرس (NiV) ایک انتہائی خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں اور انسانوں دونوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس وائرس کا پہلا کیس 1999 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا، جس کے بعد یہ بھارت، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔

نیپا وائرس کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش اس لیے بھی پائی جاتی ہے کہ اس کی نہ تو کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص علاج دستیاب ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نیپا وائرس کو ہائی رسک پیتھوجن کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیپا وائرس سے انسانی انفیکشن نایاب ضرور ہے، تاہم یہ عام طور پر چمگادڑ سے متاثرہ پھل، کھجور کے رس یا دیگر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ کسان، جانوروں کو سنبھالنے والے افراد اور وہ لوگ جو بیمار سور یا چمگادڑ کے قریبی رابطے میں آتے ہیں، زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

یہ وائرس متاثرہ شخص کے تھوک، سانس کے ذرات یا دیگر جسمانی رطوبت کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے، جس کی وجہ سے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ خاص طور پر حساس سمجھے جاتے ہیں۔

نِپاہ وائرس کی علامات:

نیپا وائرس کی علامات ہلکی سے لے کر شدید نوعیت کی ہو سکتی ہیں، جس کے باعث اس کی بروقت تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق اس وائرس کا انکوبیشن پیریڈ عموماً 4 سے 21 دن کے درمیان ہوتا ہے، تاہم بعض نایاب کیسز میں یہ مدت اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

ابتدائی علامات میں بخار اور شدید سر درد شامل ہیں، جو عموماً بیماری کی پہلی نشانیاں ہوتی ہیں۔ متاثرہ افراد میں سانس لینے میں مشکلات جیسے کھانسی، گلے میں درد یا نمونیا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

معدے سے متعلق علامات میں متلی، قے اور پیٹ میں درد شامل ہیں۔ جیسے جیسے وائرس بڑھتا ہے، یہ مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں چکر، الجھن اور بے ہوشی جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں خطرناک وائرس کے پھیلائو پر پاکستان میں ہائی الرٹ، سخت سکریننگ کا فیصلہ

شدید کیسز میں دماغی سوزش (Encephalitis) کے باعث دورے پڑنے، کوما میں جانے یا موت کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مریض میں جسمانی کمزوری، جوڑوں اور پٹھوں میں درد اور شدید تھکن بھی عام طور پر دیکھی گئی ہے۔ بعض سنگین صورتوں میں مریض 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کوما میں بھی جا سکتا ہے۔

نِپاہ وائرس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے، جو وائرس کی قسم اور وبا کے حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ بعض بچ جانے والے مریضوں میں طویل المدتی نیورولوجیکل اثرات، جیسے مسلسل دورے یا شخصیتی تبدیلیاں، بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ کچھ کیسز میں یہ انفیکشن مہینوں یا برسوں بعد دوبارہ ظاہر ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق چمگادڑ اس وائرس کا قدرتی ذخیرہ ہیں اور ایشیا و افریقہ کے کئی علاقوں میں چمگادڑوں میں اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بھی پائی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چونکہ اس وقت نیپا وائرس کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر سب سے مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ چمگادڑ سے متاثرہ پھل یا کھجور کے رس کے استعمال سے گریز، بیمار جانوروں کو سنبھالتے وقت حفاظتی لباس اور دستانوں کا استعمال، اور متاثرہ افراد سے بغیر تحفظ کے رابطے سے بچاؤ انتہائی اہم ہے۔

نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے جو جانوروں اور انسانوں کے درمیان منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جلد تشخیص، متاثرہ افراد کی علیحدہ نگہداشت اور احتیاطی اقدامات کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جب تک ویکسین اور مؤثر علاج دستیاب نہیں ہوتے، عوامی آگاہی اور صحت کے حکام کی ہدایات پر عمل ہی سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

مزید پڑھیں: آزادکشمیر کابینہ اجلاس، ہیلتھ کارڈ کے اجراء کی منظوری، وزراء کی کمیٹی تشکیل

واضح رہے کہ 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم Contagion ایک تیزی سے پھیلنے والی عالمی وبا کی کہانی پر مبنی تھی، جو نِپاہ جیسے وائرس سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس عالمی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Scroll to Top