سماہنی (سید شہاب عباس )سب ڈویژن سماہنی کی یونین کونسل کھنباہ کے گاؤں باسی پہڑہ میں قائم گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ تعلیم کی مبینہ تعلیم دشمن پالیسیوں کی نذر ہو کر عملی طور پر تبادلہ سینٹر بن چکا ہے۔
سکول کئی مہینوں سے بند رہنے لگا اور درجنوں معصوم بچیوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے صورتحال کے خلاف شہری سراپا احتجاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیپا ویلی: گرلز ہائی سیکنڈری سکول بنہ مولا سہولیات سے محروم ، طالبات پریشان
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول باسی پیڑہ میں مبینہ طور پر سزا کے طور پر ٹیچرز کی تعیناتی کی جاتی ہے جنہیں چند دن یا چند ماہ حاضری کے بعد دوبارہ تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔
مقامی شہریوں نے میڈیا کو بتایا کہ بچیوں کے سکول میں اساتذہ کے تبادلوں اور سکول کی بندش کا یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے تاہم حالیہ عرصے میں اس میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
شہریوں کے مطابق محکمہ تعلیم سماہنی کے دور دراز علاقوں سے اساتذہ کو یہاں تعینات کرتا ہے مگر وہ مستقل حاضری نہیں دیتیں، جس کے نتیجے میں سکول اکثر دنوں تک بند رہتا ہے۔
سکول میں طالبات کی تعداد 50 سے زائد ہے، اس کے باوجود اکثر اوقات دروازوں پر تالے لگے رہتے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سکول سے دو اساتذہ تنخواہیں وصول کر رہی ہیں مگر عملی طور پر ایک بمشکل حاضر ہوتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے محکمہ تعلیم بھمبر سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیم دشمن روئیے ترک کیے جائیں۔ آئے روز کے تبادلوں اور غیر حاضری کے باعث بچیوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر، آؤٹ آف سکول بچوں کے داخلے، سکولوں کی تعمیر کیلئے اسلامی ترقیاتی بینک سے معاہدہ
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ سکول نہیں چلانا چاہتا یا بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا مقصود ہے تو کھل کر سکول بند کر دے، تاکہ وہ اپنی بچیوں کو گھروں میں بٹھا لیں۔
شہریوں نے وزیر تعلیم آزاد کشمیر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے، بصورت دیگر عوام ہر سطح پر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔




