شبیر شاہ بغیر کسی جرم کے قید،بھارتی سپریم کورٹ نےثبوت مانگ لئے

نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کو حکم دیا ہے کہ ضمیر کے قیدی اور کشمیری نیلسن منڈیلا کے ناموں سے مشہور شبیر احمد شاہ کی قید کو جائز ثابت کرنے والے ثبوت پیش کرے ۔

سپریم کورٹ کے جسٹس سندیپ مہتا نے کہا کہ شبیر شاہ پر جس جرم کا الزام ہے اس کی ہم حمایت نہیں کر سکتے تاہم شبیر شاہ کو 6سال سے قید میں رکھنے کے لیے جرم کے ثبوت درکار ہوں گے ،ہم اس معاملے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے ۔

یہ بھی پڑھیں: شبیر شاہ کی طبی حالت نازک،بیٹی سحر شاہ نے ملاقات کے بعد دردناک داستان بیان کردی

جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ نے شبیر شاہ کی قید کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کو شبیر شاہ کی تقاریر اور دیگر متعلقہ حقائق پیش کرنے کی ہدایت کی۔

شبیر شاہ جون 2019میں گرفتاری کے بعد سے تہاڑ جیل میں مسلسل قید ہیں ۔ شبیرشاہ کی پیروی سینئر وکیل ایڈووکیٹ کولن گونسالویس نے کی ۔

وکیل نے عدالت کو بتایاکہ ان کے موکل کبھی تشدد میں ملوث نہیں ہوئے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کے پانچ وزرائے اعظم سے ملاقاتیں کیں۔

سپریم کورٹ نے مقدمے سے متعلق حقائق درست طورپرپیش نہ کرنے پر این آئی اے کی سخت سرزنش کی اور کہاکہ این آئی اے کو شبیر شاہ کو 6سال سے زائد عرصے سے قید رکھنے کا جواز پیش کرنا چاہیے۔

جسٹس مہتا نے این آئی اے سے سوال کیاکہ کن وجوہات کی بنا پر شبیر شاہ کی 6سال سے زائد عرصے سے قید کا جواز پیش کیاجاسکتا ہے ؟

این آئی اے کے وکیل سدھارتھ لوتھرا نے حقائق سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزید مہلت مانگی جس پر عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت10فروری تک ملتوی کردی ۔

اس سے قبل گزشتہ سال 4ستمبر کو بھارتی سپریم کورٹ نے شبیر شاہ کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی،بھارتی سپریم کورٹ نےمودی حکومت سے جواب طلب کرلیا

یاد رہے کہ سید شبیر شاہ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے چیئرمین ہیں اور وہ 38 سال سے  بغیر کسی جرم کے بھارتی جیلوں میں قید ہیں اور اب بھی شدید علالت کے باوجود تہاڑ جیل میں قید ہیں ۔

گزشتہ دنوں سید شبیر کی بیٹی سحر شاہ نے بھی علالت پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے عالمی دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ والد کی رہائی کیلئے کردار ادا کیا جائے۔

Scroll to Top