کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی،بھارتی سپریم کورٹ نےمودی حکومت سے جواب طلب کرلیا

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے دائر درخواست پر بی جے پی حکومت سے جواب طلب کرلیاہے۔

عدالت عظمی نے یہ ریمارکس دئیے کہ وہ ان زمینی حالات کو نظر انداز نہیں کرسکتی جن میں پہلگام کا واقعہ پیش آیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مودی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی عرضداشت کا بھی نوٹس لیا جس میں کہا گیا ہے کہ” بعض تحفظات کی وجہ سے فیصلہ سازی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

حکومت نے انتخابات کے بعد ریاست کا درجہ دینے کی بات کی تھی لیکن جموں وکشمیر کی ایک خاص پوزیشن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مزاحمت کاروں نے بھارتی فوج کو دھول چٹا دی، کلگام میں بھارتی فوجی آپریشن بری طرح ناکام

درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال سنکرانارائنن نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اس عدالت کو ریاستی درجے کی بحالی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن 21ماہ گزر چکے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔

بنچ نے کہا کہ پہلگام میں جو کچھ ہوا اسے آپ نظر انداز نہیں کر سکتے ، فیصلہ کرنا پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کا کام ہے۔

گوپال شنکرا نارائن نے درخواست جلد نمٹانے کی درخواست کی ۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی یوم آزادی سے قبل مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ مزید سخت،انسانی آزادی پرپابندی

سپریم کورٹ نے کشمیری ماہر تعلیم ظہور احمد بھٹ اور سماجی و سیاسی کارکن خورشید احمد ملک کی طرف سے دائر درخواست کو آٹھ ہفتوں کے بعد سماعت کے لیے مقررکیاتھا۔

Scroll to Top