حویلی ،بی آئی ایس پی سے سینکڑوں مستحقین خارج،معاشی بحران کا شکار

کہوٹہ (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام کے تحت غریب اور مستحق خاندانوں کو ملنے والا مالی تعاون بند ہونے سے ضلع حویلی کے اندر شدید معاشی بحران بڑھ گیا۔

مالی امداد کی بندش کے باعث سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں غریب خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں اور بے شمار گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی ایچ او ڈاکٹر تسکین راٹھور کا بی ایچ یو تونگیری کادورہ، اہم ہدایات جاری

ذرائع کے مطابق ضلع حویلی میں حکومت کی جانب سے بغیر کسی واضح وجہ اور شفاف جانچ پڑتال کے بے شمار مستحق افراد کے نام فہرستوں سے خارج کر دیئے گئے

جس کے نتیجے میں وہ خاندان جو اس معمولی مالی امداد سے اپنی روزمرہ ضروریات پوری کر رہے تھے، آج شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سابق سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان نئی چیئرپرسن پیمرا منتخب

احساس پروگرام غریب عوام کے لیے واحد سہارا تھا جس سے ان کا گزارا ممکن تھا، مگر اچانک امداد کے خاتمے نے ان کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نیا، شفاف اور زمینی حقائق پر مبنی سروے کرایا جائے تاکہ حقیقی مستحقین کو دوبارہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام میں شامل کیا جا سکے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سال 2026 : پہلا سپر مون 4 جنوری کی شب کو دیکھا جائےگا

عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا گیا تو غریب طبقہ شدید بھوک، بیماری اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

سماجی حلقوں، عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ غریب عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے لے

فوری طور پر مالی امداد کی بحالی کو یقینی بنائے تاکہ ضلع حویلی کے مجبور خاندانوں کو دو وقت کی روٹی میسر آ سکے اور غربت کی چکی میں پسنے والے عوام کو حقیقی ریلیف ملے۔

Scroll to Top