اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)ملکی ایوان بالا (سینیٹ) نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس دوران پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔
پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔
آرٹیکل 248 میں ترمیم صدر مملکت کے تاحیات استثنیٰ کی ترمیم منظور کرلی گئی، عہدے سے سبکدوشی پر صدر مملکت کیخلاف تاحیات کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی،
عہدے سے سبکدوشی کے بعد کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے پر استثنیٰ ختم ہو جائے۔
ستائیسویں آئینی ترمیمی پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ ہوئی تو سیف اللہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے۔
اس کے علاوہ جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو ئے۔ 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی مرحلہ وار منظوری دی۔ سینیٹ ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر ووٹنگ میں حصہ لیا۔
اس کے بعد 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے حتمی منظوری کیلئے پیش کیا گیا، آئینی ترمیمی بل منظوری کیلئے اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
سینیٹ اراکین نے 27 ویں ترمیم کے حق یا مخالفت میں لابیز میں جا کر ووٹ دیا اور یوں 64 ارکان نے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔
سینیٹ کے 64 اراکین نے آئینی ترمیم کی چھٹی سے لے کر 19 ویں شق تک کے حق میں بھی ووٹ دیا۔
دوسری جانب 27 ویں آئینی ترمیم کو منظوری کے لیے پیش کیے جانے کے موقع پر تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔
انہوں نے ترمیم کے خلاف نعرے لگائے، کاپیاں پھاڑ دیں اور بعد ازاں وہ سینیٹ سے واک آؤٹ کر کے چلے گئے۔
اپوزیشن کے اعتراض کے بعد دوبارہ گنتی کی گئی، آئینی عدالت کے قیام سے متعلق آرٹیکل 42میں ترمیم کثرت رائے سے منظور ہوگئی، آرٹیکل 59میں ترمیم بھی کثرت رائے سے منظور کی گئی۔
چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے، آرٹیکل 63اے میں لفظ سپریم کی جگہ وفاقی آئینی عدالت کرنے کی ترمیم منظور دی،
آرٹیکل 68 میں پارلیمانی بحث کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔
آرٹیکل 78 میں ترمیم متعلقہ پیراگراف میں وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی، اس دوران پی ٹی آئی اراکین ایوان سے واپس چلے گئے۔
آرٹیکل 81 کے دونوں پیراگراف میں عدالت کا اضافہ کرنے کی ترمیم بھی منظورکرلی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سینیٹرزسیف اللّٰہ ابڑو اوراحمد خان نے27 ویں آئینی ترمیم کےحق میں ووٹ دیدیا
پی ٹی آئی کے صرف سیف اللہ ابڑو ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ترمیم کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں۔
آرٹیکل 93 میں وزیر اعظم کو 7مشیروں کی تقرری کا اختیار دینے کی ترمیم منظور کرلی گئی،
آرٹیکل 100 میں لفظ سپریم کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔
سینیٹر فلک ناز چترالی، سینیٹر فوزیہ ارشد مسلسل چور چور کے نعرے لگا رہے ہیں۔
آرٹیکل 114میں وفاقی آئینی عدالت کا نام شامل کرنے، آرٹیکل 130م وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافے، آرٹیکل 165 اے میں وفاقی آئینی عدالت کے نام کا اضافہ کرنے آرٹیکل 175 کی تعریف میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا ذکر شامل کرنے اور آئین پاکستان میں آرٹیکل 175اے میں ترامیم منظور کرلی گئیں۔
جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ایک ایک سینئر ججز شامل کرنے، اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کیلئے آرٹیکل 175اے میں ترمیم، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہونے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔
منظور ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہونگے، سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت نے سنیئر ایک ایک جج بھی جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہونگے۔
آرٹیکل 175 ڈی میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی گئی، آرٹیکل 175ڈی میں آئینی عدالت کے ججز سے دوبارہ حلف لینے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی، آئینی عدالت کے جج آئین پاکستان کے تھرڈ شیڈول کے مطابق حلف لینگے۔




