air india

پاکستانی فضائی حدود کی بندش،12ہزار920 کروڑ کا نقصان ہوچکا ،سی ای اوایئر انڈیا کا اعتراف

نئی دہلی:ایئر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش ایئر لائن کی بروقت پروازوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے جبکہ12920 کروڑ (4ہزارکروڑ بھارتی روپے) کانقصان ہوچکاہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایئر انڈیا کو حالیہ مہینوں میں جغرافیائی تنازعات کے باعث فضائی حدود کی بندشوں کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے پروازوں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں اور خاص طور پر جون میں ہونے والے طیارہ حادثے میں 260 افراد کی ہلاکت کے بعد فضائی کمپنی کی کارکردگی پر انتہائی منفی اثر پڑا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے  بھارتی طیاروں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

23 اپریل کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بغیر کسی ثبوت کے الزام لگایا تھا کہ اسلام آباد نے اس حملے کی پشت پناہی کی تاہم پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی۔

بھارت نے ان الزامات کی آڑ میں سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کے بعد 24 اپریل کو پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے تھے، جن میں بھارت کیلئے فضائی حدود، سرحدی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

اس واقعے کے بعد سے دونوں ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسی ممالک نے ایک دوسرے کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔

ایئر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے ایوی ایشن انڈیا پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حدود پر پابندیاں پروازوں کے لیے وقت کی پابندی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

یہ پہلا موقع تھا، جب سی ای او ولسن نے احمد آباد میں بوئنگ ڈریم لائنر کے حادثے کے بعد عوامی سطح پر گفتگو کی۔

سی ای او نے بتایا کہ یہ خسارا فضائی راستوں میں تبدیلی، اضافی ایندھن ، عملے کے اخراجات اور طویل پروازوں کے باعث ہوا ، پروازوں کا دورانیہ 60سے 90منٹ بڑھ گیا، یورپ و امریکا جانیوالی پروازوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ ہم کس طرح بہتری لا سکتے ہیں تاہم کاروباری لحاظ سے یہ سال کافی چیلنجنگ ہوگا اور ہم تفتیش کاروں کے ساتھ بھی مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

Scroll to Top