دوحہ:افغانستان میں برسراقتدار طالبان رجیم کے قطر میں سفیر سہیل شاہین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے۔
گزشتہ دنوں ترکیے کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جو 4 روز جاری رہا اور یہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔
شواہد دیے جانے کے باوجود افغان وفد نے سرحد پار دہشت گردی روکنے کی ضمانت دینے سے انکارکردیا۔ ان مذاکرات میں افغان وفد میں طالبان کے قطر میں سفیر سہیل شاہین بھی شریک تھے۔
افغانستان کیساتھ مذاکرات ناکام، پاکستان کا دہشتگردوں اور انکےحامیوں کو ختم کرنےکیلئے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
مذاکرات کے حوالے سے بی بی سی سے گفتگو میں سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ اس طرح کے مذکرات ایک ہی بیٹھک یا ایک ہی دور میں حتمی معاہدے نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: استنبول مذاکرات ناکام،پاکستان کا دہشتگردوں وسہولت کاروں کونیست ونابود کرنے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے ہیں اور مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ دوحہ مذاکرات میں جنگ بندی ہوئی تھی جس کے بعد استنبول میں4روزہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں جس کے بعد پاکستان اور افغانستان میں ماحول تنائو کا شکار ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تسلی تشفی ایک بار ہوچکی، ایک دو بار پھر ہوگی تو مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کہ بھارت ہم سے بڑی قوت ہے، معرکہ حق دس بارہ گھنٹہ چلا اور پھر ان کو آرام آگیا جب کہ بھارت کی فوج ہم سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا ہے کہ میں فیلڈ مارشل کی حکمت عملی سے متفق ہوں کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہی ہونا ہیں لیکن جب تک ان کی تسلی تشفی نہیں ہوگی، مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے، تسلی تشفی ایک بار ہوچکی ہے، ایک دو بار پھر ہوگی تو مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے۔




