وزیر توانائی راجہ ثاقب مجید نے کشمیر ڈیجیٹل کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم کمیٹی کے ساتھ کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے راولہ کوٹ میں ایک مخصوص علاقے میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کے امن عامہ کو برباد کرنے کے لیے ماحول بنا رہے ہیں۔
ثاقب مجید کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ذریعے کوئی بات ہوتی یا ماننے والی بات ہوتی تو حکومتِ پاکستان اور وہاں سے اپوزیشن سمیت ایک بڑا وفد آیا جنہوں نے ان کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ اس گفتگو اور مذاکراتی عمل میں آزاد کشمیر حکومت کے لوگ، وزراء اور وفاق سے بھی اہم شخصیات شامل تھیں جنہوں نے معاملات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جاگراں ہائیڈل پاور پراجیکٹ کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں گے : راجہ ثاقب مجید
مذاکراتی عمل، 38 نکاتی ایجنڈا اور مطالبات کی منظوری:
انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے عزائم کچھ اور ہیں، اور اگر ان کے عزائم کچھ اور نہ ہوتے تو ایک باوقار انداز سے جو انہوں نے مسلسل اپنے مطالبات کا ایجنڈا بڑھایا، اس کو حل کی طرف لے کر جاتے۔ اس مسلسل بڑھائے گئے ایجنڈے میں آخری 38 نکاتی ایجنڈا بھی شامل تھا جس میں سے ان کی زیادہ تر باتیں باقاعدہ طور پر مان لی گئی تھیں۔
ثاقب مجید کے مطابق جو باتیں ماننے والی نہیں ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کسی اور کے کہنے پر چل رہے ہیں اور ان کی ڈوری کسی اور کے ہاتھ میں ہے، اور جہاں ان کی ڈوری ہے وہاں وہ لوگ پاکستان کے دشمن ہیں جو ہرگز نہیں چاہتے کہ آزاد کشمیر اور ریاستِ پاکستان کے اندر امن و امان قائم رہے۔
🚨فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں بھارت کو شکست ہوئی، جس کی تکلیف میں وہ پُرامن آزاد کشمیر کا ماحول ان جتھوں کے ذریعے خراب کرنا چاہتا ہے۔ ثاقب مجید https://t.co/I17m09zhwU
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) October 31, 2026




