امریکہ وسط مدتی انتخابات، نتائج صدر ٹرمپ کی صدارت کے لیے اہم ترین قرار

امریکہ میں وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے انعقاد میں اب صرف چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، جن کے حتمی نتائج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی رہ جانے والی مدتِ صدارت پر انتہائی اہم اور دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ امریکہ میں انتخابات ہر دو سال کی مقررہ مدت کے بعد منعقد ہوتے ہیں، اور جب یہی انتخابات کسی بھی منتخب صدر کی چار سالہ آئینی مدت کے بالکل وسط میں آئیں تو انھیں آئینی اصطلاح میں وسط مدتی یا مڈٹرم انتخابات کہا جاتا ہے۔

اس اہم سیاسی عمل کے تحت تین نومبر کو امریکی ووٹرز باقاعدہ طور پر کانگریس کے ارکان کا انتخاب کرنے کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکی کانگریس بنیادی طور پر دو اہم حصوں پر مشتمل ہے، جن میں ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور ایوانِ بالا یعنی سینیٹ شامل ہیں۔

کانگریس کا کردار اور سیاسی کنٹرول کی جنگ:

امریکی آئین کے تحت کانگریس کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری ملک کے لیے وفاقی قوانین بنانا اور ان کی باقاعدہ منظوری دینا ہے، یعنی ایسے قوانین کی تشکیل جو پورے ملک کے اندر یکساں طور پر نافذ العمل ہوتے ہیں۔ ان مڈٹرم انتخابات کے نتائج ہی حتمی طور پر یہ طے کریں گے کہ امریکی کانگریس کے اوپر کس سیاسی جماعت کا اقتدار اور کنٹرول قائم ہوگا، آیا یہ کنٹرول صدر ٹرمپ کی حکمران ریپبلکن پارٹی حاصل کرے گی یا پھر اپوزیشن ڈیمکریٹک پارٹی میدان مارے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ کو فون، اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال

اس کے ساتھ ساتھ ان نتائج سے یہ بات بھی مکمل طور پر واضح ہو جائے گی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے، پالیسیوں اور مختلف قومی منصوبوں پر عملدرآمد کروانا آئندہ کے لیے کتنا آسان یا دشوار رہے گا۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کے حتمی نتائج کو اس اہم پیمانے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امریکی عوام اب تک کے دور میں اپنے صدر کی مجموعی کارکردگی سے کس حد تک مطمئن یا غیر مطمئن ہیں۔

انتخابات کا دائرہ کار اور نشستوں کی تقسیم:

ان انتخابات کے دوران اہم سیٹوں اور مختلف عہدوں کے حوالے سے میدان سجنے جا رہا ہے۔ کانگریس کے ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) کی تمام 435 نشستوں پر نئے انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ ایوانِ نمائندگان کے تمام ارکان محض دو سال کی مقررہ مدت کے لیے ہی منتخب کیے جاتے ہیں اور امریکہ میں عموماً نئے قوانین کی تمام تر تجاویز سب سے پہلے اسی ایوان میں پیش کی جاتی ہیں جہاں ان پر تفصیلی بحث و تمحیص کی جاتی ہے۔

دوسری جانب اگر کانگریس کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی بات کی جائے تو سینیٹ کی کل 100 میں سے 35 نشستوں پر باقاعدہ ووٹنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ امریکی سینیٹرز چھ سال کی ایک طویل مدت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ سینیٹ کی اہم اور بنیادی ذمہ داریوں میں ایوانِ نمائندگان سے باقاعدہ منظور ہو کر آنے والے تمام مجوزہ قوانین کی حتمی منظوری دینا یا پھر ضرورت کے مطابق انہیں مسترد کر دینا شامل ہے۔