میرپور میں اسلحہ برآمدگی کی اطلاعات اور ایکشن کمیٹی کے کردار پر شہریوں اور عوامی حلقوں کی رائے

آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں کلعدم ایکشن کمیٹی کے پاس سے مبینہ طور پر اسلحہ پکڑے جانے کی اطلاعات اور عوامی حقوق کی تحریکوں کے طریقہ کار پر شہریوں اور عام عوام کی جانب سے ملا جلا لیکن دوٹوک ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ میرپور کے واقعے اور حقوق کی تحریکوں میں اسلحہ کے استعمال پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پرامن اور عوامی حقوق کی تحریک کبھی بھی اسلحہ کا استعمال نہیں کر سکتی۔

عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ خواہ کوئی بھی کمیٹی، گروپ یا تنظیم ہو، ریاست کے ساتھ کسی بھی صورت جنگ یا التجا نہیں ہونا چاہیے۔ شہریوں کے مطابق وہ اس حد تک ایکشن کمیٹی کی حمایت کرتے تھے جب تک وہ عوامی حقوق، شہریوں کے مفادات اور عوام کی بہتری کے لیے کام کر رہی تھی، کیونکہ اس سے براہ راست عوام کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ تاہم، درمیان میں آنے والے ریاستی الجھاؤ اور جنگ والے معاملے پر عوام کا کہنا ہے کہ وہ ایسے رویے کو نہ مانتے ہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔

ریاست کا مقام، مذاکرات کی ترجیح اور حتمی حدود پر شہریوں کی رائے

عوام کا کہنا ہے کہ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور ہر شہری کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ ریاست کی حفاظت کرے اور اس کے قانون کے مطابق زندگی گزارے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی رائے ہے کہ ریاست کو بھی اپنے تمام لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کی کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں پر شدید تنقید، سخت کارروائی اور غداری کے مقدمات کا مطالبہ

عوامی حلقوں نے حکومتِ آزاد کشمیر اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر ممکن حد تک تمام تر مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور بندوق یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں جس سے عام لوگوں کا نقصان ہو۔ تاہم شہریوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر دوسرے فریق مذاکرات سے انکار کریں اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل نہ ہو، تو پھر ریاست کا دفاع ہی آخری راستہ اور لازمی امر بن جاتا ہے۔

آئین کی بالادستی اور سخت کارروائی کا عوامی مطالبہ

شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر کی اپنی اسمبلی، آئین، حکومت اور ایڈمنسٹریشن کا پورا انتظام موجود ہے۔ ایسے میں عوام کے امن، ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹیں ڈالنا اور حقوق کی تحریک کی آڑ میں ریاست کے سیاسی فلسفے، تاریخی حقائق اور بنیادوں کو ڈھانے کی بات کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔

عوامی حلقوں نے آزاد کشمیر حکومت اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جو عناصر، فنڈرز اور دیگر افراد ریاست کے امن اور عوامی حقوق کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، انہیں آئین کے مطابق ڈیل کیا جائے۔ شہریوں کی متفقہ رائے ہے کہ جو بھی شخص آزاد کشمیر کے آئین اور قانون کو روندنے کی کوشش کرے، اس کے خلاف بغیر کسی رعایت کے سخت سے سخت (آئرن ہینڈ) کارروائی ہونی چاہیے۔