پیرس (کشمیر ڈیجیٹل)ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے اور کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر رائے شماری اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیاجائے۔
ان خیالات کااظہار فوکل پرسن چیئرمین کشمیر کمیٹی راجہ اشفاق حسین نے ستائیس اکتوبر کے یوم سیاہ کے موقع پر سفارتخانہ پاکستان پیرس میں کیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947 جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے کشمیری عوام کی امنگوں اور مرضی کے خلاف اپنی فوجیں سرینگر میں اتار کر ریاست جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر فوجی قبضے کا آغاز کیا۔
کشمیری عوام اس اقدام کو اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور حقِ خودارادیت کے منافی سمجھتے ہیں اور و اسی لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
فوکل پرسن و چیئرمین انٹرنیشنل کشمیر پیس فورم فرانس راجہ اشفاق حسین نے کہا کہ کشمیری عوام، خواہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں رہتے ہوں، آزاد کشمیر میں آباد ہوں یا دنیا کے کسی بھی حصے میں مقیم ہوں۔
ہر سال 27 اکتوبر کو احتجاجاً یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کی توجہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے اور کشمیری عوام کی مشکلات کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔
راجہ اشفاق حسین نے کہا کہ ستائیس اکتوبر کو اس احتجاج کا مقصد بھارتی حکومت کو واضح پیغام دینا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے قبضے کو قبول نہیں کرتے۔
کشمیری قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ کسی دباؤ، جبر یا خوف کے بغیر ایک آزادانہ ماحول میں کرنا چاہتی ہے۔ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
چیئرمین انٹرنیشنل IKPFF راجہ اشفاق حسین نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہےلیکن اس نے کشمیری عوام کے سیاسی، انسانی اور بنیادی حقوق کو غصب کررکھا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، گرفتاریاں، قیدوبند، تشدد اور خوف و ہراس کو سلسلہ جاری ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان حالات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
راجہ اشفاق حسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک مسلمہ بین الاقوامی مسئلہ ہے اور جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور خوشحالی سے اس گہرا تعلق رکھتا ہے۔
جب تک مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کے مطابق حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکل رہے گا۔ کشمیر میں امن پورے خطے میں امن اور خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے.
راجہ اشفاق حسین نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کریں اور اس دیرینہ تنازعے کے منصفانہ، پُرامن اور پائیدار حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
اسی سلسلے میں چیرمین کشمیر کمیٹی و وفاقی وزیر رانا قاسم نون نے چند دن پہلے اقوام متحدہ میں اپنے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے ویژن کے مطابق فرمایا پاکستان جموں وکشمیر کا مقدمہ پاکستان دنیا کے سارے ایوانوں میں لڑے گا ۔
راجہ اشفاق حسین نے واضح کیا کہ کشمیری قوم اپنے حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اپنی جائز جدوجہد اس وقت تک جاری رکھے گی، جب تک اسے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔




