پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر فعال، منسوخ یا طویل عرصے سے استعمال نہ ہونے والی موبائل سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہر خطرے سے محفوظ ہے؟ حقیقت جانیے
پی ٹی اے نے اس سے قبل آگاہی مہم کے ذریعے صارفین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس ایسے فعال موبائل نمبرز سے منسلک رکھیں جو ان کے اپنے استعمال میں ہوں اور جن پر ان کا کنٹرول برقرار ہو۔
اتھارٹی نے ستمبر میں خبردار کیا تھا کہ غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کیے جا سکتے ہیں کیونکہ بعض نمبرز مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سم کی حیثیت کی تصدیق کریں اور اگر موبائل نمبر تبدیل کر چکے ہیں تو واٹس ایپ کی رجسٹریشن بھی نئے نمبر پر منتقل کر لیں۔
پی ٹی اے کے مطابق غیر فعال یا منسوخ موبائل نمبرز بعدازاں کسی دوسرے صارف کو جاری کیے جا سکتے ہیں، اگر سابقہ مالک کا واٹس ایپ اکاؤنٹ اسی نمبر پر رجسٹرڈ رہے تو اکاؤنٹ کی سکیورٹی متاثر ہونے اور غیر متعلقہ شخص کے ذریعے اس کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایسی صورت میں سابقہ صارف اپنے اکاؤنٹ کا کنٹرول کھو سکتا ہے جبکہ دوبارہ جاری کیے گئے نمبر کے ذریعے اکاؤنٹ تک رسائی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ غیر فعال نمبرز سے منسلک اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کا مقصد ایسے ممکنہ خطرات اور فراڈ کی روک تھام کرنا ہے۔
پی ٹی اے نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ واٹس ایپ میں موجود Change Number فیچر استعمال کرتے ہوئے اپنا اکاؤنٹ موجودہ موبائل نمبر پر منتقل کریں، اس عمل کے لیے ایسا نمبر استعمال کیا جائے جو فعال ہو اور صارف کے اپنے کنٹرول میں ہو۔
اتھارٹی نے رواں سال مئی میں بھی خبردار کیا تھا کہ بلاک شدہ، منسوخ، غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی ختم ہو سکتی ہے۔
بعدازاں جاری کردہ آگاہی پیغامات میں بھی صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کی رجسٹریشن بروقت درست کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ میں لوکیشن شیئرنگ فیچر کو مزید آسان اور بہتر بنا دیا گیا
پی ٹی اے نے کہا کہ سم کی رجسٹریشن یا غیر فعال نمبر سے متعلق مسئلے کی تصدیق کے لیے صارفین اپنی موبائل کمپنی کی فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے رابطہ کریں۔
اتھارٹی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اکاؤنٹ تک رسائی ختم ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت اپنے موبائل نمبر کی تصدیق کریں اور واٹس ایپ کو ایسے نمبر سے منسلک رکھیں جو ان کے زیرِ استعمال اور کنٹرول میں ہو۔




